امسال مکمل سلیبس پڑھایاجائے گا ، امتحانات مئی جون میں منعقد ہوں گے ،  وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کی  بین الصوبائی وزرائے تعلیم  کانفرنس  کے بعد صحافیوں سے گفتگو

108

کراچی۔18نومبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ تعلیم سیاست سے بالاتر ہے اور ہم سب نے مل جل کر تعلیم کے لئے کام کرنا ہے ، مشترکہ طورپر فیصلہ ہوا ہے کہ اس سال مکمل سلیبس پڑھایا جائے گا اورامتحان مکمل سلیبس کے مطابق ہوں گے ، امتحانات مئی جون میں منعقد ہوں گے جبکہ اے اور او لیول کے امتحانات بھی اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے ، وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لئے سیکریٹریز کی سطح پر بھی کوآرڈینیشن مکینزم بنے گا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں مقامی ہوٹل میں صوبہ سندھ کی میزبانی میں منعقدہ 33 ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم  کانفرنس کی صدارت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا  کہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم  کانفرنس وقتافوقتا منعقد ہوتی ہے اور آج کی کانفرنس کی میزبانی حکومت سندھ نے کی ، جس کے لئے ہم ان کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی کانفرنس میں تعلیم سے متعلق  معاملات پر گفتگو ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر میرا یہ ہمیشہ تجزیہ رہا ہے کہ تعلیم سیاست سے بالاتر ہے اور تعلیم ایسی چیز ہے جس سے ملک بنتے ہیں ، انسان اپنی بہتری کرتا ہے ، اسلئے ہم سب نے مل جل کر تعلیم کے لئے کام کرنا ہے، سیاسی اختلافات اپنی جگہ  لیکن تعلیم کے لئے ہماری کاوش مشترکہ ہے ۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ آج یہ فیصلہ ہوا کہ اس سال جو سلیبس پڑھایا جارہا ہے وہ مکمل کیا جائے گا اور امتحان مکمل سلیبس کے مطابق ہوں گے کیونکہ پچھلے سال حالات خراب تھے اسکول تھوڑی دیر کے لئے چلے تھے ،سلیبس کو کم کیا تھا اور صر ف اختیاری مضامین میں امتحان لیا تھا، یہ پاکستان کے تمام بورڈز نے مشترکہ فیصلہ کیا تھا لیکن آج صوبائی وزرائے تعلیم کی بین الصوبائی کانفرنس جس میں وفاقی بورڈ کے چیئرمین اور تما م صوبائی وزرائے تعلیم بھی موجود تھے میں یہ فیصلہ ہو اکہ امتحان مئی جون میں ہوں گے اورمکمل سیلیبس کے مطابق ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کا مقام ہے کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے جس طرح کورونا وبا ء کم ہوئی ہے اب تعلیمی سال بھی معمول کی طرف جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے تعلیم جس طرح متاثر ہوئی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مختلف پروگرامز زیر غور آئے۔ اس میں ایسا پروجیکٹ جو ورلڈبینک کے تعاون سے ہے ،جو تقریبا 250 ملین ڈالر کا ہے ، وفاق اور صوبے مل کر پروگرام بنائیں ، اور اس میں ایسے اضلاع جہاں پر بچے اسکول سے باہر زیادہ ہیں، ایسے اضلاع جہاں بچیوں کی تعلیم اتنی نہیں جتنی ہونی چاہئے اور جو اضلاع کورونا سے متاثر ہوئے ہیں ان سارے اضلاع میں ورلڈ بینک کی مدد سے اسپیشل فوکس پروگرام ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مشترکہ پورے ملک میں ایک پروگرام کی ابتداء کی ہے خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کے لئے جہاں جہاں چاردیواریوں کی ضرورت ہے ،جہاں غسل خانوں کی ضرورت ہے و ہ بنیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچیاں اسکول جاسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ 250 ملین ڈالر کا پروگرام وفاق کوآرڈینٹ کررہاہے اور آج اس سلسلے میں چونکہ ہم کراچی آئے تو 81 کروڑ روپے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ حکومت کو دیئے گئے ہیں، یہ گرانٹ ہے یہ کوئی قرضہ نہیں ہے اور وہ اپنے پروگرام اس کے مطابق کرسکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ  مستند ڈیٹاآرگنائزیشن بنانے کے لئے بھی ڈسکشن ہوئی ، اس پر بھی بحث ہوئی کہ کس طریقے سے ہم اپنا مستند ڈیٹااکھٹا کرنے کے عمل کو بہتر کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی کوآرڈینشن کو بہتر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا اور اس کو آرڈینشن کو بہتر بنانے کے لئے جس طرح بین الصوبائی وزراء کی باقاعدہ میٹنگ ہوتی ہے ، اب سیکریٹریز کی سطح پر بھی کوآرڈینشن میکنزم بنے گا