نیب نے انکے خلاف بھی کارروائی کی جن کی طرف ماضی میں کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا؛ چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال

36

اسلام آباد، 30 دسمبر (اے پی پی ):قومی احتساب بیورو  (نیب) کے  چیئرمین جسٹس جاوید اقبال  نے کہا ہے کہ آج ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے، بدعنوانی کے خاتمہ  کیلئے نیب کو فعال  ادارہ بنا دیا ہے ، نیب  بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے متحرک ہے، نیب نے گزشتہ 4 سالوں کے دوران بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 541 ارب روپے برآمد کیے جو کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں قابل ذکر کامیابی ہے، نیب نے انکے خلاف بھی کارروائی کی جن کی طرف ماضی میں کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔

  ان خیالات کا اظہارانہوں نے  نیب ہیڈ کوارٹرز میں  منعقدہ ایک تقریب سے خطاب  کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ آج ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے نیب کو ایک متحرک ادارہ بنا دیا ہے جو بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ آج ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، ورلڈ اکنامک فورم، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور مشال پاکستان جیسے نامور قومی اور بین الاقوامی ادارے نہ صرف بدعنوانی کے خاتمے کے لیے نیب کی کوششوں کو سراہتے ہیں بلکہ گیلانی اور گیلپ سروے میں 59 فیصد لوگوں نے نیب پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے۔  جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے گزشتہ 4 سالوں کے دوران بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 541 ارب روپے برآمد کیے جو کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں قابل ذکر کامیابی ہے۔ نیب کو اپنے آغاز سے اب تک510729 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 498256 شکایات کو نمٹا دیا گیا ہے۔ نیب نے 16307 شکا یات  کی تحقیقات کی قانون کے مطابق اجازت دی جن میں سے 15475 شکایات  کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔ نیب نے 10365 انکوائریاں قانون کے مطابق شروع کیں جن میں سے 9299 انکوائریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے4707 تحقیقات کی اجازت دی جن میں سے 4377 تحقیقات نیب نے مکمل کی ہیں۔ نیب نےاپنے قیام کے بعد سے اب تک   822.115 ارب روپےبالواسطہ اور بلاواسطہ  طور پربرآمد کیے۔ نیب نے مختلف فاضل احتساب عدالتوں میں 3772 ریفرنس دائر کیے جن میں سے 2508 ریفرنسز کے فیصلے فاضل احتساب عدالتوں نے سنا دیئے ہیں۔ اس وقت 1264 ریفرنسز جن کی مالیت تقریباََ 1335 ارب روپے ہے جو ملک کی مختلف احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے انفورسمنٹ سٹریٹجی کے تحت شکایات سے جانچ پڑتال، انکوائری اور انوسٹی گیشنز مکمل کرنے کے لیے 10ماہ کا وقت مقرر کرنے کے علاوہ کمبائن انویسٹی گیشن ٹیم کا ایک نیا نظام متعارف کرایا جس میں سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانشمندی سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا تاکہ قانون کے مطابق ٹھوس شواہد اور بیانات کی بنیاد پر انکوائریوں اور تفتیش کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا ئے جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں بلکہ گزشتہ 4سالوں کے دوران معزز احتساب عدالتوں نے1194ملزمان کو قانون کے مطابق سزا سنائی جبکہ نیب کا مجموعی سزا کا تناسب تقریبا 66 فیصد ہے۔