راولپنڈی ۔22دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے لوگوں میں بیماریوں سے بچاؤ کے لئے احتیاط پر مبنی رویوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کے غیر ضروری استعمال کے کلچر کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔ بدھ کو یہاں پانچویں راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں جو غیر ذمہ دارانہ رویوں کے باعث پھیلتی ہیں، احتیاطی تدابیر کے ذریعے ان پر قابو پایا جانا چاہیے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں نو فیصد آبادی ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصر میں حکومت نے مریضوں میں ہیپاٹائٹس کے علاج کے لیے تین بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ پاکستان کو ایسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ لوگوں کو اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے اور اینٹی بائیوٹک ادویات کے زیادہ استعمال کے کلچر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان پولیو کے خاتمے میں کامیابی حاصل کر لے گا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران مریضوں کے علاج میں طبی برادری کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ دنیا نے انسانی مسائل پر تشویش کے دعووں کے باوجود لوگوں کو ویکسین کی فراہمی میں انصاف نہیں کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ دنیا کے کئی مقامات پر اس وقت بوسٹر ڈوز دی جا رہی ہیں جب کہ اب بھی ایسی جگہیں ہیں جہاں لوگوں کو ویکسینیشن کی پہلی خوراک تک نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو ویکسین کی فراہمی کے بارے میں مزید کام کرنا چاہیے تھا اور عالمی ادارہ صحت نے اس خاص مسئلے کو اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا لیکن اس سے بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئیں جبکہ پاکستان میں حکومت اور ڈاکٹروں نے علمائے کرام اور معاشرے کے تمام طبقات کے تعاون سے سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے بیماری سے مؤثر طریقے سے نمٹا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ناخواندگی جیسے مسائل کے باوجود لوگوں نے ایس او پیز پر عمل کیا اور احتیاطی تدابیر اختیار کیں، انہوں نے کہا کہ یورپ سمیت دیگر ممالک میں لوگوں نےکووڈ – 19 کے دوران ماسک کے استعمال کے قوانین کے خلاف مزاحمت کی اور احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ غذائیت کی کمی اور سٹنٹنگ بڑے مسائل ہیں، ملک میں 40 فیصد لوگ غذائی قلت اور سٹنٹنگ سے متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور بچوں کے فارمولا دودھ کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ صدر مملکت ڈاکٹر علوی نے کہا کہ ڈاکٹر ہر بیماری کو علاج کی نظر سے دیکھنے کے بجائے لوگوں کو احتیاطی تدابیر کا مشورہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے غذائی قلت کے خلاف کی جانے والی کوششوں میں پاکستان کی مدد کی ہے اور حکومت کے احساس پروگرام کے تحت غذائی قلت کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے اور لوگوں کو ان کے بچوں کے لیے نقد رقم سمیت مراعات دی گئیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ڈاکٹروں کو غذائی قلت اور موٹاپے کے خلاف مہم کی قیادت کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان اچھے ڈاکٹر پیدا کر رہا ہے، جنہیں صحت کی سہولیات کو بڑھانے کے لیے تمام آبادی تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے لوگوں کو ہیلتھ انشورنس کارڈ جاری کرنے پر حکومت کی تعریف کی جو مختلف بیماریوں کا مفت علاج کروا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آبادی میں اضافے کے مسئلے کا سامنا ہے، ہمیں آبادی میں اضافے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی طریقوں کی طرف بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنے پر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کی خدمات کو سراہا۔











