حیدرآباد،05جنوری (اے پی پی): دماغی ونفسیاتی امراض کے ہسپتال سر کاوس جی انسٹیٹیوٹ آف سائکیاٹری اینڈ بہ ہیورل سائنسز حسین آباد کو نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے مریضوں کیلئے ایک جدید ہسپتال کی شکل دی جا رہی ہے تاکہ ذہنی و نفسیاتی امراض اور نشے کی لت میں مبتلا مریضوں کا جدید طریقے سے علاج کر کے انہیں مکمل صحتیاب ہونے کے بعد معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جا سکے ۔ ان خیالات کا اظہار کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ نے بدھ کو ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد پیر محمد شاہ اور دیگر افسران کے ہمراہ سرسی جے انسٹیٹیوٹ آف سائیکیاٹری اینڈ بی ہیورل سائنسز حسین آباد حیدرآباد میں اینٹی نارکوٹکس کے دونئے تعمیر شدہ وارڈز کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمشنر حیدرآباد نے کہا کہ دماغی و نفسیاتی امراض کے ہسپتال حسین آباد میں اس سے قبل مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کو ایک ہی وارڈ میں رکھا جاتا تھا لیکن اب مریضوں کی کیٹیگری بنا کے ہر عمر اور بیماری کے حساب سے مریضوں کو الگ الگ وارڈ میں رکھا گیا ہے اورجوں جوں مریض صحتیاب ہوتا جا رہا ہے اس کو ایک پر فضا ماور تفریحی ماحول فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی معمول کی زندگی کی جانب لوٹ سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین مریضوں کیلئے بھی ایک نیا وارڈ بنوایا جا رہا ہے اور جو خواتین مریض ٹھیک ہوتی ہیں انہیں ایک الگ وارڈ میں منتقل کرکے مختلف گھریلوہنر سکھائے جاتے ہیں تاہم المیہ یہ ہے کہ کچھ مریضوں کے ورثا اپنے مریضوں کو داخل تو کرواتے ہیں لیکن ٹھیک ہونے کے بعد ان کی خبر گیر ی نہیں کرتے ۔ اس ضمن میں ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے تاکہ ان ورثا کو پابند کیا جائے کہ وہ ٹھیک ہونے والے مریضوں کی تمام تر قانونی کاروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں واپس اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ اسپتال پر زیادہ بوجھ نہ پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ سیلانی ٹرسٹ اور دارالسکون ٹرسٹ کے اس ضمن میں اقدامات قابل ستائش ہیں ۔
اس موقع پر ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد ریجن پیر محمد شاہ نے کہا کہ ریجن میں نشے کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کئے گئے ہیں اور با الخصوص آئس نشہ کی روک تھام کیلئے تمام ایس ایس پیز کو پابند کیا گیا ہے اور کہا کہ اینٹی نارکوٹکس کے وارڈز میں آنے والے مریضوں کی تمام تر معلومات انکے دفتر سے شیئر کی جائے تاکہ منشیات کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ نشے کی لت میں مبتلا مریض مختلف جرائم میں بھی ملوث ہوتے ہیں لہٰذاان کی معلومات پولیس کیلئے اشد ضروری ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ نشے کی لت میں مبتلا مریضوں کا نہ صرف علاج کیا جائے بلکہ اس ضمن میں لوگوں میں آگاہی مہم بھی چلائی جائے۔
اس موقع پر دارالسکون کے کنٹری ہیڈ مورس خورشید نے کمشنر حیدرآباد اور ڈی آئی جی حیدرآباد ریجن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دارالسکون ٹرسٹ کی جانب سے معذور اور لاوارث بچوں کے کراچی میں 5 مراکز کا م کر رہے ہیں جبکہ اب جامشورو ضلع کے سہون اور اس ہسپتال میں بھی مراکز قائم کئیے جا رہے ہیں اور کہا کہ ڈویزنل انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی شیلٹر ہاؤس قائم کئیے جائیں گے جبکہ کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگرام بھی شروع کیا جا رہاہے ۔اس موقع پر دار السکون کی چیف ایگزیکیٹو اینا ڈینیئل نے دارالسکون ٹرسٹ کی کاردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر سیلانی ٹرسٹ کے ریجنل مینئجر امتیاز علی اور ذاکر سیلانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ کے مختلف اضلاع میں ایمبولنس سروس اور اسٹریچر سروس جاری ہے اس کے علاوہ مختلف اضلاع کے 35مختلف مقامات پر لاوارث لوگوں کیلئے کھانے کے اسٹالز قائم کئیے ہوئے ہیں جہاں پر ہر روز دو وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی او آر کالونی میں خصوصی بچوں کو روزانہ صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمشنر حیدرآباد کی گذارش پر دماغی و نفسیاتی ہسپتال حسین آباد حیدرآباد میں انسداد منشیات کے نئے تعمیر شدہ وارڈز کیلئے 150کے قریب بستر، رضائیاں ، بیڈ شیٹس اور مطلوبہ اشیاءآج فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ مستقبل میں ایک شیلٹرہاؤس قائم کرنے کے علاوہ مریضوں کے تیمارداروں کیلئے مسافر خانہ اور شیڈ بنانے کا پروگرام بھی بنایا گیا ہے۔
اس موقع پر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈینٹ ڈاکٹر سید عامر دبیر نے ہسپتال کی کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اس سے قبل کمشنر نے ڈی آئی جی حیدرآباد پیر محمد شاہ ، دارالسکون ٹرسٹ کے کنٹری ہیڈ مورس خورشید ، دارالسکون ٹرسٹ کی چیف ایگزیکیٹو اینا ڈائنل اور دیگر افسران کے ہمراہ ربن کاٹ کر تعمیر شدہ دود نئے وارڈز کا افتتاح کیا۔
سورس: وی این ایس، حیدر آباد











