سیاحتی مقامات پر ہوٹلوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کہسار ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے۔ حسان خاور

38

لاہور 26 جنوری ( اے پی پی )  معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب برائے اطلاعات و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے گورنمنٹ کالج فار وویمن گلبرگ میں سیاحت کے حوالے سے منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آنے والی نسلوں کو محفوظ سیاحت کے مواقع فراہم کرنے کیلئے، سیاحتی مقامات پر مری جیسے واقعات کی روک تھام اور دیگر سیاحتی مقامات کو محفوظ بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر انقلابی اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں پاکستان اور بالخصوص پنجاب سیاحت کے حوالے سے منفرد خصوصیت کے حامل ہیں۔ تاہم سیاحت کے شعبے میں 9 کھرب ڈالر کی عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں ہمارا حصہ صرف 0.1 فیصد ہونا بدقسمتی کی بات ہے۔ دنیا کا سیاحتی جی ڈی پی 10 فیصد سے زیادہ ہے تاہم پاکستان آتے آتے یہ آدھا رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاحت کے شعبے کی خامیوں کو دور کر کے سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ معاون خصوصی وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ماضی میں ٹی ڈی سی پی اعلیٰ معیار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ تحریک انصاف حکومت ٹی ڈی سی پی کا وہی معیار اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے نئی پالیسیاں متعارف کروا رہی ہے۔ حسان خاور نے کہا کہ سیاحت کو پروموٹ کرنے کیلئے نجی سیکٹر کو ساتھ ملانے کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کو فروغ دینا موجودہ حکومت کا ویژن اور مشن ہے۔ اس ضمن میں ہوٹلوں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے کوہسار ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیاحت کیلئے کوٹلی ستیاں، فورٹ منرو، کوہ سلیمان، سون ویلی جیسے کئی نئے مقام قائم کئے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب سیاحوں کو موسم اور ٹریفک کی صورتحال سے باخبر رہنے کیلئے سڑکوں پر بڑی ڈیجیٹل سکرینیں بھی لگائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات پر ٹریفک مانیٹرنگ کا بھی مربوط نظام بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ مری میں نئے ایمرجنسی ریلیف سنٹرز کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ حسان خاور نے سیمینار کے شرکاء کو ہدایت کی کہ سیاحت کیلئے نکلنے سے قبل موسم اور ٹریفک کا احوال ضرور جان لیں تاکہ دورانِ سیاحت کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔