اسلام آباد،25جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کابینہ نے کریمنل لاء ترمیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت ہر فوجداری کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں کرنا لازمی ہوگا، 9 ماہ میں فیصلہ نہ کرنے پر مجسٹریٹ یا جج تاخیر کی وجہ سے آگاہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر متعلقہ جج مناسب وجوہات بیان نہ کر سکا تو کارروائی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو ضمانت کا اختیار بھی دیا جا رہا ہے، کریمنل مقدمات میں پلی بارگین کو بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ مالی مقدمات کا بوجھ عدلیہ پر کم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او کی تعلیمی قابلیت کم از کم بی اے لازمی ہوگی، پراسیکیوشن کے دائرہ اختیار کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ خودمختار پراسیکیوشن سروس قائم کی جا رہی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں پاکستان کا سکور مالی کرپشن کی وجہ سے نہیں بلکہ رول آف لاء کی وجہ سے گرا، ہمیں ملک میں رول آف لاء پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی مکمل رپورٹ ابھی شائع نہیں ہوئی، اس میں فنانشل کرپشن کا ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں اور این جی اوز کی رپورٹس کی بنیاد پر یہ رپورٹ بنائی گئی ہے، تمام اداروں نے پاکستان کی رینکنگ کو برقرار رکھا، صرف اکانومسٹ انٹیلی جنس کنٹری یونٹ نے درجہ بندی گرائی ہے، چیک کرلیں اس کا پاکستان میں سربراہ کون ہے، تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ کیوں گرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیر کے لئے الگ قانون اور غریب کے لئے الگ قانون ہے، اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رول آف لاء اور اسٹیٹ کیپچر جیسے معاملات میں ہمہ وقت تمام اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کریمنل جسٹس ریفارمز سے رول آف لا میں بہتری آئے گی، ہائی پروفائل اور اہم مقدمات کی سماعت براہ راست دکھائی جانی چاہئے تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ وہ کیس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کا اومنی کیس، شہباز شریف کا کیس، عثمان مرزا، نور مقدم کیس کا ٹرائل براہ راست نشر کیا جائے، عوامی دلچسپی کے مقدمات کا فوری فیصلہ ہونا چاہئے، قانون کی بالادستی میں عدلیہ کا بہت اہم کردار ہے۔











