اسلام آباد،25جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتا یا کہ کابینہ کے اجلاس میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں پاکستان کا سکور مالی کرپشن کی وجہ سے نہیں بلکہ رول آف لاء کی وجہ سے گرا، ہمیں ملک میں رول آف لاء پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی مکمل رپورٹ ابھی شائع نہیں ہوئی، اس میں فنانشل کرپشن کا ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں اور این جی اوز کی رپورٹس کی بنیاد پر یہ رپورٹ بنائی گئی ہے، تمام اداروں نے پاکستان کی رینکنگ کو برقرار رکھا، صرف اکانومسٹ انٹیلی جنس کنٹری یونٹ نے درجہ بندی گرائی ہے، چیک کرلیں اس کا پاکستان میں سربراہ کون ہے، تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ کیوں گرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیر کے لئے الگ قانون اور غریب کے لئے الگ قانون ہے، اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رول آف لاء اور اسٹیٹ کیپچر جیسے معاملات میں ہمہ وقت تمام اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کریمنل جسٹس ریفارمز سے رول آف لا میں بہتری آئے گی، ہائی پروفائل اور اہم مقدمات کی سماعت براہ راست دکھائی جانی چاہئے تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ وہ کیس کیا ہے۔











