کاروباری شعبہ کی ترقی کے لیے کم مارک اپ پرقرضوں کی فراہمی سٹیٹ بینک آف پاکستان کی اولین ترجیح ہے؛ایم ڈی سٹیٹ بینک اشرف خان

36

ملتان، 25 جنوری(اے پی پی ): سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مینجنگ ڈائریکٹر اشرف خان نے کہاہے کہ روزگار کی فراہمی اور کاروباری شعبہ کی ترقی کے لیے نہ صرف ایس ایم ایز کوآسان شرائط اور کم مارک اپ پرقرضوں کی فراہمی سٹیٹ بینک آف پاکستان کی اولین ترجیح ہے بلکہ شہریوں کو ان کے ذاتی گھروں کے لیے بھی آسان شرائط پر قرضہ جات کی فراہمی تیزی سے جاری ہے۔

ان باتوں کا اظہار انہوں نے ایوان تجارت و صنعت ملتان میں منعقدہ دوروزہ ایس ایم ای میلہ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایم ڈی سٹیٹ بینک اشرف خان نے کہاکہ کسی بھی شہری کا بنیادی حق ہے کہ اس کاذاتی گھرہو۔اس امر کویقینی بنانے کےلئے حکومت پاکستان نے میرا گھرمیرا پاکستان سکیم لانچ کی ہے جس میں نہ صرف پرائیویٹ بینک بلکہ ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن بھی شہریوں کو آسان اقساط پرقرضہ جات کی فراہمی کا کام کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 220ملین نفوس پرمشتمل ہے جس میں 10ملین گھروں کی ضرورت ہے جبکہ ہرسال سات لاکھ نئے گھروں کی ڈیمانڈ بھی آرہی ہے ،شہریوں کی اس بنیادی ضرورت کوپورا کرنے کے لیے سٹیٹ بینک دیگربینکوں کے ساتھ مل کر ہاﺅس فنانسنگ کا کام کررہاہے ،ڈیڑھ سال پہلے میرا گھر میراپاکستان سکیم کااعلان ہوا،عوامی شکایات اور تجاویز ملنے پر سٹیٹ بینک نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے درخواستوں کے مرحلے کوآسان اور سادہ جبکہ بعض شرائط کوبھی نرم کردیا ہے جس سے اب شہریوں کی بڑی تعداد اپنے ذاتی گھروں کے لیے قرضہ جات حاصل کررہی ہے۔

ایم ڈی سٹیٹ بینک اشرف خان نے کہاکہ ایوان تجارت وصنعت ملتان ایس ایم ایس سیکٹر کے لئے ناصرف ہماری سکیموں سے استفادہ کر رہا ہے بلکہ ان سکیموں کی آگاہی کے لئے مختلف پروگرامز کا انعقاد بھی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دو روزہ ایس ایم ای میلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے،اس سے پہلے عام لوگ بینکوں سے قرضہ لینے میں ہچکچاہٹ کاشکارتھے، اب لوگوں کارجحان بھی بڑھ گیا ہے اوربینکوں کا رویہ بھی بہتر ہوگیا ہے ،ایس ایم ایز سیکٹر کے لیے آسان قرضہ سکیم میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے رسک کو کم کرنے اور بینکوں کوقرضوں کی فراہمی میں تیزی لانے کےلئے 60فیصد تک حکومتی مدد فراہم کی جائے گی ۔

اشرف خان  نے کہا کہ حکومت میرا گھر میرا پاکستان سکیم کے قرضے صرف پانچ سے سات فیصد مارک اپ پر فراہم کررہی ہے، اب تک 30ارب روپے سے زائد کے قرضہ جات دیئے جاچکے ہیں جبکہ ایک سو ارب کے قرضوں کی منظوری دی جاچکی ہے ۔ہم بینکوں کے عملے کوبھی مانیٹر کررہے ہیں اور اس سکیم کوماہانہ بینادوں پر مانیٹر کیاجارہاہے۔

ایوان تجارت وصنعت ملتان کے صدرخواجہ محمد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے لگائے ایس ایم ایز میلہ کو بہت پذیرائی ملی ہے تاجروں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے میلے میں آ کر معلومات لینے کے ساتھ ساتھ قرضہ جات کے لیے درخواستیں بھی جمع کرائی ہیں، ہماری کوشش ہے کہ آئندہ ماہ ایوان میں ایک اور آگاہی سیمینارمنعقد کیاجائے جس میں حکومت کی ان سکیموں کے بارے میں مزید آگاہی فراہم کی جائے گی ۔

ایوان تجارت وصنعت ملتان ڈی جی خان کے صدرڈاکٹر شفیق پتافی اور ایوان تجارت و صنعت خانیوال کے صدر طیب ساجد،چیمبرآف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کے صدرشیخ فیصل ،چیمبر آف سمال ٹریڈیز کے صدر ظفر اقبال صدیقی ،مینگو گروورز ایسوسی ایشن کے صدر زاہد گردیزی ،کریانہ ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے صدر میاں آفاق انصاری  نے کہاکہ حکومت کی جانب سے ایس ایم ایز سیکٹر کو آسان شرائط پر قرضہ جات کی فراہمی احسن اقدام ہے ۔دنیا میں انہی ممالک نے ترقی کی ہے جہاں پرائیویٹ سیکٹر مضبوط ہوا ۔کرونا وباءسے لے آج تک سٹیٹ بینک اورحکومت نے کاروباری برادری کو سپورٹ کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سٹیٹ بینک بڑے شہروں کی طرح جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی اپنی سکیمیں لے کر آئے ۔سٹیٹ بینک وومن انٹرپرینورشپ کوبھی سپورٹ کرے تاکہ ملکی معیشت میں خواتین بھی اپنا کردار ادا کرسکیں۔