دی ہیگ میں پاکستانی سفارت خانہ کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے ویبنارکا انعقاد

28

دی ہیگ۔6فروری  (اے پی پی):دی ہیگ میں  پاکستانی سفارت خانہ  کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے ایک ویبنار کا انعقاد کیاگیا۔  پاکستان کے سفیر سلجوک مستنصر تارڑ، سابق سفیر اعزاز احمد چوہدری ،   علی رضاسید، چیرمین کشمیر کونسل یورپین یونین، پروفیسر محمد اسلم سید اور نامور علمی شخصیت نے خطاب کیا۔                                                                                      ویبنار میں  چالیس  سے زائد افراد نے شرکت کی جن میں ماہرین تعلیم، یونیورسٹی کے طلباء اور کمیونٹی ممبران شامل تھے۔ مقررین نے جموں و کشمیر تنازعہ کے تاریخی، سیاسی، قانونی اور انسانی جہت اور اس کے علاقائی اور عالمی مضمرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر  میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی برادری کے ضمیر کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں، ہندوستانی حکومت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد سے  مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال تیزی سے ابتر ہوئی ہے۔                                                                                                                                        اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سفیرپاکستان سلجوک مستنصر تارڑ نے کہا کہ 05 اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بدستور خراب ہوتی جا رہی ہے، غیر انسانی فوجی محاصرہ جو کہ تقریباً ڈھائی سال سے جاری ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔سفیرپاکستان  نے جموں و کشمیر کے مسئلے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے پاکستان کی قیادت کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں اور کشمیر کے تنازعے کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔  سابق  سفیر اعزاز احمد چوہدری نے کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت، ان کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کے لئے بھارتی حکام کی جانب سے منظم حملوں اور امن کے حصول کے لیے بین الاقوامی برادری کے اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔                                                     کشمیر کونسل یورپی یونین کے چیئرمین علی رضا سید نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام کی طرف سے کالے قوانین کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں حال ہی میں لاپتہ ہونے والے صحافیوں کا مسئلہ اٹھایا جو بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور ان کے جبر و ستم کی داستان بھی دکھارہے ہیں۔  علی رضا نے اس سلسلے میں تارکین وطن کو مزید فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔                                                                                            پروفیسر محمد اسلم سید نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال کی انسانی جہت پر توجہ مرکوز کی ۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا  کے ذریعے دنیا میں فعال کردار ادا کریں تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی جیل میں مقیم کشمیریوں کی صورتحال کو اجاگر کیا جا سکے۔شرکا ء نے اس موقع پر بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور کچھ سوالات بھی اٹھائے جن کا پینل نے جواب دیا۔ سفیرپاکستان  نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستانی سفارتخانے میں گفتگو اور شمولیت پر مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔