کوئٹہ، یکم فروری (اے پی پی): صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو اور بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ، سی اینڈ ڈبلیو کے 300سے زائد ملازمین کی بحالی، گریڈتین سے پندرہ تک کی خالی آسامیوں پر محکمانہ کمیٹی کے ذریعے بھرتی، ریڈ زون کے خاتمے کے فیصلے کی تو ثیق کی منظوری دے دی ہے، کابینہ نے اپوزیشن ارکان کے حلقوں میں ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کی منظور ی دے دی ہے،گزشتہ حکومت میں نو منتخب اور غیر منتخب افراد کو 24ارب روپے کی اسکیمات دی گئیں۔جبکہ ڈاکٹروں سمیت تمام لوگوں کے مسائل سننے کو تیار ہیں لیکن کسی کو زبردستی فیصلے کرنے نہیں دیں گے، یہ بات انہوں نے کابینہ اجلاس کے بعد پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو سردار عبدالرحمن کھیتران نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ کابینہ نے 36 ایجنڈا آئٹم ساڑھے تین گھٹنے میں نمٹائے کر ان پر فیصلے کئے۔انہوں نے کہا کہ کا بینہ نے لینڈ ریو نیو ایکٹ 1967اور ای سٹیمپ رول 2021میں ترامیم،بلو چستان سمند ری ماہی گیری کے رولز 1971میں ترامیم کی منظوری دے دی،ما ہی گیر ی رولز ترمیم کا مقصد مقامی ما ہی گیری کے ما ہی گیری کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے انہوں نے کہا کہ کا بینہ نے بلو چستان فارسٹ ایکٹ 2021کے مسودے کی منظوری دے دی۔ سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ کابینہ میں جمہوری ماحول ہے ہر ایک اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے 24منتخب ارکان جنہیں عوام نے ووٹ دیا ہے انکے حلقوں میں ترقیاتی کام کرنا انکے حلقے کے عوام کا حق ہے گزشتہ حکومت میں اپوزیشن کو صفر جبکہ 24ارب روپے غیر منتخب نمائندوں کو دئیے گئے اپوزیشن کے حلقوں کے ترقیاتی فنڈز دینے کی منظوری دے دی ہے منتخب نمائندوں پر گاڑیاں چڑھانا جمہوریت نہیں ہے ہماری حکومت جمہوری ہے اگر بادشاہت کرنی ہے تو صدارتی نظام لا کر بادشاہت کریں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی احتجاج کرتا ہے ہم سب کو سننے کو تیار ہیں لیکن احتجاج ریکارڈ کروانے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ سڑکیں یا ریڈزون بند کئے جائیں انہوں نے کہاکہ میڈیکل کالجز کے طلبا کو بلایا گیا لیکن وہ نہیں آئے انکے بعض مسائل وفاقی حکومت سے متعلق ہیں جو صوبائی حکومت کے مینڈیٹ میں نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ گوادر سے کوئٹہ مارچ اور احتجا ج نہیں ہوگا وزراءپر کوئی بھی الزامات لگا سکتا ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و سماجی بہبود بشریٰ رند نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ عوامی نمائندے ہیں سب کے مشورے سے فیصلے ہوئے ایسامحسوس ہوا کہ کابینہ اجلاس چل رہا ہے نہ کہ کسی شخص کی حکمرانی میں اجلاسوں کے نتائج نکلنے چاہیے موجودہ کابینہ نے جو فیصلے کئے ہیں انکے جلد مثبت تنائج آئیں گے اور ہر پندرہ روز بعد کابینہ اجلاس ہوا کریگا انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ غریب پرور ہیں اور انکے فیصلے غریب عوام کے لئے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر چاہتے ہیں کہ انکی تنخواہیں بڑھائی جائیں جس سے خزانے پر 7ارب روپے کا بوجھ آئیگا لیکن اس سے وہ آسامیاں پر نہیں ہونگی جن پر بے روزگار ڈاکٹرزکو تعینات کیا جائیگا۔











