پشاور، 21 فروری(اے پی پی): ضلع چارسدہ میں خانمائی پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے تھانہ خانمائی کے حدود سے اغوا ہونے والا نوجوان جواد کو بازیاب کراکے 2 اغواء کار گرفتار کرلئے ہیں۔
گزشتہ روز تھانہ خانمائی میں نسیم ولد اشرف نے بیٹے کے اغوائیگی کی رپورٹ درج کی جس پر ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد نے نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کیلئے ایس پی انوسٹی گیشن چارسدہ سجاد خان کی سربراہی میں ڈی ایس پی سٹی احسان شاہ خان،ایس ایچ او خانمائی طارق سعید خان، سی آئی او زبیر خان،اے ایس آئی اکرم خان، پی اے ایس آئی ناصر خان اور لیڈیز پولیس پر مشتمل ٹیم تشکیل دی۔ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مغوی نوجوان جواد خان کو بازیاب کرکے ملزمان احمد شکیل ولد شکیل خان اور ساتھی ملزم شاہ فیصل اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا۔
پولیس نے احمد شکیل کے قبضے سےرائفل جبکہ ساتھی ملزم شاہ فیصل سے 9ایم ایم پستول، وقوعہ میں استعمال ہونے والی موٹرکاراور مغوی سے چھینی گئی موبائل فون اور پیسے برآمد کیا گیا ۔ملزمان سے ان کے موبائل جس سے مغویوں کے برہنہ ویڈیو بناتے تھے وہ موبائل فون بھی برآمد کرلیا ہے۔
ملزمان نے علاقہ خانمائی میں دہشت پھیلا رکھی تھی ان کے حجرے میں ٹارچرسیل قائم تھا جن میں بات نہ ماننے پر مغویوں کو سزائیں دی جاتیں تھیں۔
ملزم احمدشکیل اور اس کے دست راست ملزم شاہ فیصل نے تھانہ خانمائی میں اعتراف جرم کرلیا ہے۔ ملزمان پہلے سے عادی جرائم پیشہ تھے جن کے خلاف منشیات فروشی ، لینڈ مافیا اور دیگر جرائم میں ملوث رہے ہیں ۔
اس حوالے سے ڈی پی او چارسدہ کا کہنا تھا کہ پولیس کا فرض ہے کہ وہ انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں اپنا فرض ادا کرے اور ظلم وبربریت قائم کرنے والے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ان کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں غریب اور جاگیردار سب برابر ہیں جو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کریگا یا کسی کو ظلم کا نشانہ بنائیں وہ کسی صورت قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی تحفظ ہمارا اولین فرض ہے اور پولیس اپنی فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریگی۔











