کراچی۔10فروری (اے پی پی):گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ کامیاب جوان پروگرام نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدل رہا ہے،ماضی میں کسی بھی حکومت نے نوجوانوں کی ترقی پر کام نہیں کیا، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت سندھ کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہے۔جمعرات کے روز یہ بات انہوں نے کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کلب گلشن اقبال ڈسٹرکٹ ایسٹ میں کے جے پی کنونشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ترقی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا وژن تھا۔ وزیراعظم عمران خان کو ملک کے نوجوانوں پر مکمل اعتمادہے ۔گورنر سندھ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کی بہترین کارکردگی دکھانے والی 10وفاقی وزارتوں کو تعریفی اسناد سے نوازا۔ عمران اسماعیل نے اس موقع پر کے جے پی میں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے لیے ہیلپ ڈیسک کے قیام کا بھی اعلان کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ نوجوانوں کو ایک اہم اثاثہ قرار دیا اور اس پروگرام کا آغاز کرکے انہوں نے اپنے الفاظ کو درست ثابت کیا۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبائی امراض پھیلنے کے باوجود نوجوانوں میں 32ارب روپے تقسیم کیے گئے۔ سندھ میں 8 ارب روپے تقسیم کیے گئے ۔سندھ کی صوبائی حکومت نے صوبے کے نوجوانوں کے لیے کچھ نہیں کیا تاہم وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت سندھ کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے کراچی میں میگا پراجیکٹس شروع کیے جن میں کراچی سرکلر ریلوے، گرین لائن بس، نالوں کی صفائی اور بہت سے دوسرے منصوبے شامل ہیں۔عثمان ڈار نے اعلان کیا کہ کے جے پی دکاندار کے تحت 2000 دکانیں ان نوجوانوں کو دی جائیں گی جو کراچی میں اپنی تجارت شروع کرنا چاہتے ہیں۔سندھ میں رواں سال 10 ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے۔کنونشن میں ارکان قومی اسمبلی عالمگیر خان، سیف الرحمان، ایم پی اے ارسلان تاج، پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے صدر ایم پی اے بلال غفار اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماں نے شرکت کی۔بعد ازاں گورنر سندھ عمران اسماعیل اور ایس اے پی ایم برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کامیاب جوان پروگرام کے مستحقین میں چیک تقسیم کیے۔اس موقع پر گورنر سندھ اور معاون خصوصی کو روایتی سندھی ٹوپی اور اجرک پیش کی گئی۔











