لاہور، 18 مارچ(اے پی پی ): معاون خصوصی وزیرِ اعلی پنجاب برائے اطلاعات و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا ہے کہ لٹریسی ریٹ بڑھانے کیلئے حکومت پنجاب نے سات ہزار سکولوں کو اپ گریڈ کیا ہے ، اگر خواتین گھروں اور کام کرنے والی جگہوں پر محفوظ نہیں تو ہم نیشنل سیکورٹی حاصل نہیں کر سکتے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں ایس ایس ڈی او کی جانب سے پنجاب کے اضلاع میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔معاون خصوصی وزیرِ اعلی پنجاب برائے اطلاعات و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا ہے کہ پاکستان میں صنفی بنیادوں پر تشدد میں کمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو ملکر ایک منظم اور مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں حکومت نے گزشتہ تین سال میں اہم قوانین بنائے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں ان قوانین سے متعلق آگاہی، تفتیشی اداروں کے اہلکاروں کی مناسب تربیت اور عدالتی عمل میں تیزی لائی جائے۔ اس ضمن میں سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ایس ایس ڈی اوکا جمع کردہ ڈیٹا ایک خوش آئند اقدام ہے جس سے حکومت کو پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔
حسان خاور نے کہا کہ حکومت نے نیشنل سیکیورٹی پالیسی 2020 میں بھی اس امر کا اعتراف کیا کہ جینڈر سکیورٹی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام طبقوں کی خواتین کو تشدد کے مسائل کا سامنا ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ جب بھی معاشرے میں ایسا گھنائونا جرم ہوتا ہے تو تمام طبقات یک آواز ہو کر متاثرہ عناصر کو انصاف دلانے کے لیے متحرک ہو جاتے ہیں۔











