تحریک انصاف میں مائنس وَن کی کوئی گنجائش نہیں، عمران خان بانی چیئرمین ہیں ؛وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

16

اسلام آباد،18مارچ  (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم عدم اعتماد کامقابلہ کرینگے، سندھ میں گورنرراج نہیں لگائینگے،اتحادی ساتھ نہیں چھوڑینگے،تحریک انصاف کے ناراض اراکین سے اپیل ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں،تحریک انصاف میں مائنس وَن کی کوئی گنجائش نہیں، عمران خان بانی چیئرمین ہیں۔

جمعہ  کو وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد حسین چوہدری اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کا اجلاس ہوا  ۔اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشاورت ہوئی۔فیصلہ ہوا ہے کہ ہم عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ کریں گے اور انہیں انشاء اللہ شکست دیں گے۔

 شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اس ابہام کو دور کرنا چاہتا ہوں کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، کسی طرح کی رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے۔یہ بھی واضح کر دوں کہ سندھ میں گورنر راج کا نہ کوئی ارادہ تھا نہ ہے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعید غنی  اور بلاول بیٹا بے جا پریشان نہ ہوں،ہمارے اتحادیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔میں تسلسل سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے اتحادی ہمیں نہیں چھوڑیں گے۔

 مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں چوہدری صاحبان کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ جذباتی نہیں سیاسی فیصلے کرتے ہیں،انہیں علم ہے کہ ن لیگ ان کیلئے کتنی گنجائش رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018 میں ان کے راستے میں روڑے نون لیگ نے اٹکائے، سیاسی سوچ رکھنے والے جانتے ہیں کہ چودھری صاحبان وضع دار لوگ ہیں کوئی غیر سیاسی فیصلہ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی نے جو ایم کیو ایم کے ساتھ سلوک کیا وہ سب کے علم میں ہے۔ایم کیو ایم والے سیاسی لوگ ہیں وہ پچھلے چار سال میں ایم کیو ایم کےساتھ، پیپلز پارٹی کے سلوک کو نہیں بھولیں گے۔وہ لوگ جو سندھ ہاؤس میں ہیں سیاسی لوگ ہیں انہیں علم ہے کہ آئین اور قانون کا تقاضا کیا ہے،وہ بلے کے نشان پر جیت کر آئے ہیں وہ کسی مخالف کی گود میں نہیں بیٹھیں گے۔

 شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نون لیگ نے ماضی میں کئی لوگوں سے ٹکٹوں کے وعدے کیے جو ایفا نہ ہوئے،وہ ہمارے کولیگ ہیں ہم ان سے کہیں گے کہ وہ سیاسی حریفوں کی گود میں نہ بیٹھیں،میں ان سے کہوں گا کہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کریں۔انہوں نے کہا کہ آج  پولیٹیکل کمیٹی نے وزیر اعظم کی صدارت میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر کوئی اس اپیل کے باوجود منحرف ہوتا ہے تو اسے شو کاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف میں مائنس ون کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ماضی میں جب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے ادوار میں مائنس ون کی بات کی گئی تو کیا نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے اس پر اتفاق کیا، آج شہباز شریف، نواز شریف کی جگہ نہیں لے سکتا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان بانی ہیں انہوں نے تحریک انصاف کا پودا لگایا ہے،آج الحمد للہ چار حکومتیں انہوں نے قائم کی ہیں۔سندھ میں بھی تبدیلی کی ہوا دیکھ کر آ رہا ہوں، اپوزیشن کو اس بات پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ افغانستان کی صورتحال کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ابھی تک حادثاتی طور پر چلائے گئے میزائل کی کوئی توجیح نہیں دے سکا، یوکرین کی صورتحال کے باعث معیشتیں شدید متاثر ہو رہی ہیں، کیا اس صورت حال میں ملک عدم استحکام کا متحمل ہو سکتا ہے؟میں آج اپنے دوستوں کو بھی کہوں گا کہ اپنی گفتگو میں پارلیمانی لہجہ استعمال کریں اور الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس میں سب کی متفقہ رائے تھی کہ نہ ہمیں گورنر راج کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ارادہ ہے۔عدم اعتماد کی تحریک ان کا آئینی حق ہے ہم مقابلہ کریں گے،ہمارا تصادم کا نہ ارادہ تھا نہ ہے نہ ہو گا۔ابھی پیپلز پارٹی والے سرکاری وسائل پر مارچ لیکر اسلام آباد آئے ہم نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔