معلوم تھا کہ مافیا پر ہاتھ ڈالنے کا نتیجہ سازشوں کی صورت میں نکلے گا ؛وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین

16

اسلام آباد،21مارچ  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ  سپریم کورٹ سے تشریح مانگی ہے کہ کیا آئین ضمیر فروشی کی اجازت دیتا ہے،معلوم تھا کہ مافیا پر ہاتھ ڈالنے کا نتیجہ سازشوں کی صورت میں نکلے گا۔

  یہ بات انہوں نے پیر کو یہاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آج کیس کی سماعت ہوئی ہے، صدارتی ریفرنس پر بھی بات ہوئی ہے، آرٹیکل 63 اے آئین کا بنیادی حصہ ہے، سپریم کورٹ سے کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی جائے اور بتایا جائے کہ پاکستان کے آئین کے تحت ضمیر فروشی، لوٹا کریسی، ووٹ فروخت کرنے کی اجازت ہے یا نہیں، سپریم کورٹ سے جو بھی جواب آئے گا وہ عوام کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت مافیاز کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں، ہمیں پہلے دن سے پتہ تھا کہ مافیاز کے خلاف اقدامات پر ہمارے خلاف سازشیں ہوں گی، ڈاکوئوں کو اکھاڑنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، یہ پہلا موقع نہیں کہ عمران خان اس طرح کے چیلنج سے نبرد آزما ہوئے ہوں، عمران خان نے زندگی میں ہمیشہ بڑے چیلنج لئے ہیں، موجودہ چیلنجز کو بھی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی کا اجلاس 22 کو نہیں ہوا تو 25 کو ہو جائے گا، س میں کون سی قیامت آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اپوزیشن نے او آئی سی کے خلاف جتنی مہم چلائی اتنی بھارت اور اسرائیل نے بھی نہیں کی، جو لوگ کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ او آئی سی کانفرنس کر کے دکھائو، ان کو شرم آنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے پورے سیاسی کیریئر میں اسلام کے نام پر ووٹ لیا لیکن انہوں نے اسلام کے لئے کیا خدمت انجام دی۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے   دنیا میں اسلاموفوبیا کے خلاف مہم شروع کی، ناموس رسالتۖ پر پہرہ دیا، عمران خان پاکستان میں اسلامی فلاحی مملکت کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے نومولود لیڈرز نے اسلامی وزراء خارجہ کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، اسلامی وزراء خارجہ کانفرنس کی تاریخیں ایک سال پہلے طے ہوئیں، اس کی حتمی تاریخ کا اعلان بھی چھ سے آٹھ مہینے پہلے ہوا، اپوزیشن اپنی قرارداد دس دن بعد جمع کروالیتی تو کیا قیامت آ جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام کوششیں پاکستان کے مفادات کو زد پہنچانے کے لئے ہیں، او آئی سی وزراء خارجہ کانفرنس کے خلاف اتنی کوششیں ہندوستان اور اسرائیل کی طرف سے نہیں ہو رہیں جتنی اپوزیشن کر رہی ہے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان، مولانا فضل الرحمان اور ان کے نام نہاد اتحاد کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے منحرف ارکان کو سات دن کا موقع دیا ہے، وہ واپس آ جائیں، اگر واپس نہیں آتے تو ان کی تاحیات نااہلی ہوگی، ایسے ارکان اپنے بچوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قرارداد کے تحت تین دن کے لئے قومی اسمبلی ہال اسلامی سربراہی کانفرنس کو دیا گیا ہے، اس پر  اپوزیشن کی مخالفت قابل مذمت ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن کی ہر بات مانتے رہیں تو وہ ٹھیک ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ن لیگ کا میڈیا سیل پی ٹی آئی کی ڈی پیز بنا کر فوج کے خلاف مہم چلا رہا ہے، فوج اور پی ٹی آئی میں تفرقہ ڈالنے کی ن لیگ کی ایسی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی، عمران خان کی حکومت اور پاکستانی  فوج  ملک کے استحکام کے آئینہ دار ہیں، افواج پاکستان حکومت کے پیچھے کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چور سپاہی مل کر نہیں چل سکتے، کوئی سپاہی چوروں کے ساتھ نہیں ملتا، اپوزیشن اپنے کردار کو بدلنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ڈاکوئوں اور چوروں کی سلطنت کھڑی کر دی ہے اور ان کی توقع ہے کہ پاکستان کے عوام ان کے پیچھے کھڑے ہوں گے تو ایسا ہر گز نہیں ہوگا، اس لڑائی میں فتح حق اور سچ کی ہوگی۔

 ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے کبھی مخالف پارٹی کا ایک ایم این اے نہیں توڑا، نہ اب ہم یہ کرنے جا رہے ہیں، آئین میں موجود ہے کہ آزاد امیدواروں نے الیکشن کے بعد فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ انہوں نے کون سی پارٹی جوائن کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  کسی دوسری پارٹی کا ہم نے کوئی آدمی نہیں توڑا اور نہ ہی کوئی فارورڈ بلاک بنایا۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ حکومت کے پیسے پر لانگ مارچ کیا، سندھ ہائوس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، ہمارے پاس چار صوبوں کے پیسے تھے، ہم پیسے لگانا شروع کر دیتے تو یہ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن عمران خان نے پہلے دن واضح کر دیا تھا کہ ہم نے ایک روپیہ دے کر کسی بندے کو نہیں لانا اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا، یہ لیڈر شپ کا فرق ہے جو عمران خان اور باقی لوگوں میں موجود ہے، یہی وہ سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر ہم نیا پاکستان حاصل کریں گے۔

سورس:وی  این ایس، اسلام آباد