وفاقی بجٹ میں جنوبی پنجاب پیکج میں شامل ہونیوالے منصوبوں پر مشاورت کا عمل مکمل،اہم منصوبوں کی نشاندہی کر لی گئی

37

ملتان،3مارچ(اے پی پی ): وفاقی بجٹ میں جنوبی پنجاب پیکج میں شامل ہونیوالے منصوبوں پر مشاورت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔زراعت، لائیوسٹاک اور ماہی پروری کی ترقی اور  آبی وسائل میں اضافے اور انٹر ڈسٹرکٹ ہائی ویز کی تعمیر کے منصوبوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

اس سلسلے میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت اسلام آباد میں ورچوئل اجلاس منعقد ہوا۔

 جنوبی پنجاب کے  سیکرٹری زراعت ثاقب علی عطیل، سیکرٹری جنگلات،فشریز و وائلف لائف سرفراز مگسی اور سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ شعیب اقبال سید نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ اجلاس میں ملتان سے  ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ ثاقب ظفر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

ورچوئل اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ ثاقب ظفر نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں ساوتھ پنجاب پیکج کی تیاری کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے مشاورت ایک اعزاز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی جنوبی پنجاب کی ترقی پر توجہ ہے جس کے بہترین نتائج برآمد ہونگے۔

کیپٹن ریٹائرڈ ثاقب ظفر نے کہا کہ زراعت، لائیو سٹاک اور ماہی پروری کے شعبے کو فروغ دیکر معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور بہترین بیج زراعت میں ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئےدور رس اقدامات کرنے ہونگے جس کے ذریعے کپاس کی پیداوار اور برآمد میں کھویا ہوا مقام حاصل کیا جاسکے گا۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب نے بتایا کہ لائیو سٹاک میں جدید تحقیق کے ذریعے پوری دنیا کی گوشت کی مانگ پوری کی جاسکے گی اور آم اور کنوں کی برآمدات بڑھانے کے اقدامات سے کسان خوشحال ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ آبپاشی کے لئے برساتی نالوں پر ڈیم کی تعمیر وقت کی ضرورت ہے،ان ڈیمز سے ضائع ہونے والا پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا جس  سے ڈی جی خان ڈویژن کا ناقابل کاشت رقبہ آباد کیا جاسکے گا۔انہوں نے انٹر ڈسٹرکٹ ہائی ویز کی تعمیر کے  منصوبوں کی اہمیت پر بھی زور دیا

۔سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے بتایا کہ کسان کو بیل آوٹ کرنے کے لئے بائیو فرٹیلائزر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،بائیو فرٹیلائزر کے عمل سے پیداور میں اضافہ اور اخراجات میں کمی واقع ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ کاٹن ریوائول کے لئے پیسٹی سائیڈ پر انحصار کم کرنا ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ زیر زمین پانی کو بہتر طور پر استعمال کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

سیکرٹری فاریسٹ،فشریز اینڈ وائلڈ لائف ساوتھ پنجاب سرفراز مگسی نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں ماہی پروری کو فروغ دینے کے وسیع مواقع  موجود ہیں، ماہی پروری کی فروغ سے فش ایکسپورٹ کے ذریعے زر مبادلہ کمایا جاسکے گا اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ جنوبی پنجاب شعیب اقبال سید نے آئندہ مالی سال میں شروع ہونیوالے منصوبوں بارے مشاورت کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس عمل سے جنوبی پنجاب میں ترقی کا عمل مزید تیز ہو گا۔