ایک پرامن کشمیری رہنما پر دہشت گردی کا الزام ہے، حکومتِ پاکستان سے اپیل ہے ہمارے کیس میں ہماری مدد کرے؛ مشعال ملک

15

اسلام آباد، 23 مئی  (اے پی پی):سینئر حریت رہنما یاسین ملک کی ہلیہ مشال ملک نے کہا ہے کہ ایک پرامن کشمیری رہنما پر دہشت گردی کا الزام ہے، حکومتِ پاکستان سے اپیل ہے ہمارے کیس میں  ہماری مدد کرے۔

 پیر کو یہاں  پاکستان پیپلز پارٹی  کے  رہنما سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے ہمراہ پریس کانفرس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ  25 مئی کو بھارت کچھ بھی کرسکتا ہے، ایک پرامن کشمیری لیڈر پر دہشت گردی کا الزام لگا دیا گیاہے ،وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری سے اپیل ہےکہ ان کا کیس لڑنے میں ہماری مدد کرے ۔ انہوں نے کہا کہ  یاسین ملک کوکوئی قانونی معاونت نہیں دی جا رہی ، ان کے وکیل راجہ طفیل کو ذہنی تشدد کے باعث برین ہیمرج ہو گیا تب یاسین ملک نے اپنا کیس خود لڑنے کا فیصلہ کیا۔

 مشال ملک نے کہا کہ ایک پر امن  کشمیری لیڈر پر دہشت گردی کو غداری کا الزام لگادیا گیا۔ انہوں نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کی کہ وہ اس کیس کولڑنے  میں ہماری مدد کرے۔ انہوں نے کہاکہ یاسین ملک امن و آزادی کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ8 سال ہو گئے ہیں میں نے اپنے شوہر کو نہیں دیکھا۔ جس طرح کلبھوشن کو اہل خانہ سے ملوایا گیا اسی طرح مجھے بھی یاسین ملک سے ملنے کی اجازت دی جائے ۔

 سینئر حریت رہنما یاسین ملک کی ہلیہ مشال ملک نے کہا کہ جو قربانی کشمیری دے رہے ہیں اس سے روح کانپ جاتی ہے ۔بھارتی جیل میں قید میں ان کے شوہر کو زہردے کر مارنے کی  کوشش بھی کی گئی اور اب 25 مئی کو انہیں یکطرفہ طور پر سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔ مودی حکومت آئندہ انتخاب کی تیاری اور ہندوتوا کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے یاسین ملک کو پھانسی دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر ڈھانے جانے والےمظالم پردنیا خاموش ہے۔