حکومت گندم کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے کنٹرول روم کے قیام سمیت گوداموں پر ٹریکر لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے؛  وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر

13

اسلام آباد،11مئی  (اے پی پی):قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ حکومت گندم کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے کنٹرول روم کے قیام سمیت گوداموں پر ٹریکر لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جون تک سرکاری گندم کی خریداری کا کام مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو باہر سے گندم منگوانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

 بدھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا کہ ماضی میں غیر معیاری گندم درآمد کی جاتی رہی  مگر اب  ایک معیار کے مطابق درآمد کی جارہی ہے، اب غیر معیاری گندم کا پاکستان میں آنا مشکل ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے ایک ضمنی سوال کے جواب میں وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا کہ ہم نے اپنے پچھلے دور حکومت میں گندم کے کاشتکاروں کو مراعات دیں جس کی وجہ سے گندم میں  خودکفیل تھے مگر گزشتہ چند سالوں میں کھادیں بروقت اور مہنگی ملنے، پانی کی کمی سمیت دیگر وجوہات کی وجہ سے فصل کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون تک سرکاری گندم کی خریداری کا کام مکمل کرلیا جائے گا اس کے بعد باہر سے گندم منگوانے کا کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے گندم کی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کی ہے، ہم گندم کے گوداموں پر ٹریکرز لگانے اور اس کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے کنٹرول رومز بھی بنانے کا سوچ رہے ہیں۔

وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ایرا کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور صوبہ خیبرپختونخوا سمیت دیگر زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیراتی کام متعلقہ صوبائی حکومتیں کریں گی، اب یہ معاملات وفاقی حکومت کے دائرہ کار سے باہر ہیں، نیو بالا کوٹ سٹی کی تعمیر کا 70 فیصد کام اب تک کے پی حکومت مکمل نہیں کر سکی ہے ۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی اور اپوزیشن رکن ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے این سی او سی کی بحالی کو اچھا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر ( این سی او سی) نے کورونا وبا کے دوران اچھا کام کیا ہے، اس سے ڈینگی کی روک تھام کے لئے بھی خدمات لی جاسکتی ہیں۔

وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد کے جلسے میں سپہ سالار کو میر جعفر اور میر صادق کہنے کے بعد عمران خان نے جہلم میں پھر یوٹرن لے لیا، وہاں جو زبان استعمال کی گئی وہ قابل مذمت ہے۔  انہوں نے کہا کہ بے وفائی لوٹا کریسی ہے جو جماعت کے اکابرین اپنے منشور سے بے وفائی کرتے ہیں ان کے لئے عہد شکن، آئین شکن اور لوٹا کہا جاتا ہے۔ گزشتہ حکومت اگر اپنے منشور پر عمل کرتی اور یہ ممبران ان کا ساتھ چھوڑتے تو یہ عہد شکنی ہوتی۔ سپہ سالار کو میر جعفر اور میر صادق کہنے والے کو اس سے یوٹرن کہنے والے کو قوم قبول نہیں کرے گی۔ آئین، اداروں، مذہب کا احترام نہ کرنے والا کیا آج بھی لاڈلا ہے۔ جہلم میں جو زبان استعمال کی گئی اس کی بندش کے لئے موجودہ حکومت اداروں کا استعمال نہیں کرے گی اور نہ ہی اس کا استعمال کیا جانا مناسب نہیں ہے تاہم کیا انہیں یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اس طرح ہرزہ سرائی کریں۔

  قومی اسمبلی کا اجلاس  جمعرات کی صبح 11بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے ساتھ ساتھ ایجنڈے میں شامل امور نمٹائے گئے۔