اسلام آباد، 20 مئی ( اےپی پی): وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ، غیر ضروری لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی۔ لگژری آئٹمز پر پابندی کا براہ راست اثر کرنٹ اکاونٹ خسارے پر ہوگا ۔جس کے نتیجے میں سالانہ چھ ارب ڈالر کی بچت ہوگی
تمام امپورٹڈ گاڑیاں، تزئین و آرائش کی اشیاء، موبائل فون، خشک میوہ جات و پھلوں کی درآمد پر پابندی۔کراکری، جوتے، فوڈ آئٹمز (ساسز و کیچپ)، فروزن فوڈ آئٹمز اور مچھلی کی درآمد پر پابندی۔کارپٹ، میک اپ, سن گلاسز کی درآمد پر پابندی۔سینیٹری آئٹمز، بیگ و سوٹ کیس، چاکلیٹ، جوس و بیکری کا سامان سمیت سگریٹ کی درآمد پر بھی پابندی۔امپورٹڈ شیپمو، ہیٹر، ٹشو پیپر، فرنیچر پر پابندی۔غیر ملکی اشیاء کی درآمد پر پابندی کے دو ماہ کے اندر غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔لگژری آئٹمز پر پابندی کا لوکل پروڈیوسرز اور مقامی سطح پر لگی ہوئی صنعت پر مثبت اثر ہوگا۔ تمام وہ آئٹمز جو عام عوام کے استعمال میں نہیں ہیں ان کی درآمد پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔حکومت کی ترجیح درآمدات پر انحصار کم کرنا اور برآمدات پر مبنی اکنامک پالیسی متعارف کرانا ہے۔ مقامی صنعت ترقی کرے گی، ملک کے اندر مقامی صنعتوں کے فروغ سے لوگوں کو روزگار میسر آئے گا۔











