پاکستان میں انسانی سمگلنگ اور مہاجرین کی سمگلنگ کے خلاف آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا

24

اسلام آباد،17مئی  (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کےدفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کے کنٹری آفس پاکستان نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے اشتراک سے منگل کو  پاکستان میں انسانی سمگلنگ اور مہاجرین کی سمگلنگ کے خطرات اور مشکلات پر آگاہی مہم کا آغاز کر دیا ۔ اس مہم کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا، شعبہ تدریس، سِوِل سوسائٹی تنظیموں، غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز)، متعلقہ سرکاری اداروں اور عام شہریوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ملک میں انسانی سمگلنگ اور مہاجرین کی سمگلنگ کی روک تھام اور اس کے خلاف جوابی اقدامات کی صلاحیتوں کو مستحکم بنایا جا سکے۔

آگاہی مہم امیگریشن، پناہ گزینوں اور شہریت کے لئے حکومت کینیڈا کے ادارے آئی آر سی سی کے مالی تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔ مہم کے تحت انسانی سمگلنگ اور مہاجرین کی سمگلنگ کے خطرات، مسائل اور مشکلات کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لئے  فلاح عامہ کے پیغامات پر مبنی بروشر، پمفلٹ، سٹریمر اور بینر شائع کئے جائیں گے اور ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ان پیغامات کو پھیلایا جائے گا۔

 منگل کو یہاں آگاہی مہم کیلئے منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  پاکستان میں یو این او ڈی سی کے نمائندہ ڈاکٹر جیریمی ملسم نے کہا کہ انسانی سمگلنگ پر یو این او ڈی سی کی عالمی رپورٹ 2020 کے مطابق جرائم پیشہ عناصر بچوں کی سمگلنگ کے لئے انتہائی غریب گھرانوں، بکھرے ہوئے خاندانوں یا ایسے بچوں کو ہدف بناتے ہیں جن کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہ ہو۔ کم آمدنی والے ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ سمگلنگ کا شکار بننے والے افراد میں نصف تناسب بچوں کا ہے جن کی سمگلنگ زیادہ تر یعنی 46 فیصد تک جبری مشقت کے لئے کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ  زیادہ آمدنی والے ممالک میں بچوں کی سمگلنگ جنسی استحصال، جبری جرائم یا گداگری جیسے مقاصد کے لئے بھی کی جاتی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارہ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن  اشرف زبیر صدیقی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان ان ہولناک غیرانسانی جرائم کے خاتمہ کے لئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان کی بجاآوری کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جرائم کے خلاف مرکزی ادارہ ہونے کے ناطے ایف آئی اے نے اپنے بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ بالعموم اور یو این او ڈی سی کے ساتھ بالخصوص شاندار روابط استوار کئے ہیں جو اس سلسلے میں ہمارے پختہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ایف آئی اے انسانی سمگلنگ اور مہاجرین کی سمگلنگ جیسے سنگین منظم جرائم سے نمٹنے کے لئے اپنے ادارے کی صلاحیتوں میں بہتری کے ساتھ ساتھ پالیسی اور قانون سازی اصلاحات، تربیتی سرگرمیوں، ضروری سازوسامان، تحقیق و ترقی اور بین الاقوامی تعاون جیسی سرگرمیوں میں یو این او ڈی سی کے تعاون اور معاونت پر شکرگزار ہے۔

 انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے اور یو این او ڈی سی انسانی سمگلنگ اور مہاجرین کی سمگلنگ کے خلاف جدوجہد میں ایک طویل عرصے سے باہمی تعاون کے تحت مل کر کام کر رہے ہیں۔ 2018 میں یو این او ڈی سی کے ساتھ مل کر کی گئی کوششوں کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے انسانی سمگلنگ اور مہاجرین کی سمگلنگ پر دو قوانین کی منظوری دی جس کے بعد 2021 کے اوائل میں ان پر عملدرآمد کے قواعد کی منظوری بھی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی سمگلنگ اور مہاجرین کی سمگلنگ کے خاتمہ کے لئے نیشنل ایکشن پلان کا مسودہ بھی یو این او ڈی سی کی معاونت سے تیار کیا گیا جو آئندہ پانچ سال کے عرصے میں کئے جانے والے ضروری اقدامات پر واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

 پاکستان میں  کینیڈا ہائی کمشن کے میتھیو سیواگلیا   نے کہا کہ آج شروع کی جانے والی اس آگاہی مہم سے انسانی سمگلروں اور مہاجرین کے سمگلروں کے ہاتھوں انتہائی شدید خطرات سے دوچار افراد کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس مہم کے ذریعے یہ اہم معلومات ان لوگوں تک پہنچائی جائیں گی جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور ان کی بدولت سِوِل سوسائٹی، پالیسی ساز اور حکومتی افسران کو ان جرائم کی روک تھام اور جوابی اقدامات کے سلسلے میں مل کر کام کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا انسانی سمگلنگ جیسی سرگرمیوں کے خاتمہ کے لئے حکومتِ پاکستان اور یو این او ڈی سی جیسے پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ان کوششوں کی بدولت محفوظ مائیگریشن کو یقینی بنانے میں بھی مدد ملے گی اور اس کے بارے میں اہم معلومات پر آگاہی میں اضافہ ہو گا۔

واضح رہے کہ اس آگاہی مہم پر ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں کام کیا جائے گا۔ سِوِل سوسائٹی اس سلسلے میں اہم پارٹنر کا کردار ادا کرے گی ۔ یہ مہم اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں روک تھام اور تحفظ جیسے دونوں اہم شعبوں کی حکمت عملیوں پر کام کیا جا رہا ہے جس سے انسانی سمگلنگ کے ممکنہ متاثرین اور کمزور طبقات کی مدد کے سلسلے میں سِوِل سوسائٹی کی سرگرمیوں میں بھی مدد ملے گی۔