فیصل آباد ،7مئی (اے پی پی):وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران نیازی اپنی پارسائی کے بہت دعوے کرتے تھے لیکن صاف چلی شفاف چلی والی بات توشہ خانے سے ہوتی ہوئی فرح گوگی تک جا پہنچی جبکہ ابھی رنگ روڈ اور اس سے آگے بھی بہت کچھ سامنے آئے گاکیونکہ پی ٹی آئی نے نہ صرف اپنے دور حکومت میں پنجاب میں کرپشن کی بدترین تاریخ رقم کی بلکہ بیڈ گورننس اور کرپٹو کریسی کے ذریعے اداروں کا بھی بیڑا غرق کردیا جسے جنگی بنیادوں پر درست کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔پولیس و سول بیوروکریسی میں ایسے محنتی و ایماندار افسران کو آگے لایا جائے گا جو عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں اور عوام کو فوری ریلیف کی فراہمی میں حکومت کی معاونت کرسکیں۔
وہ ہفتہ کی شام سرکٹ ہاؤس فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر و وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ پنجاب میں ایک ماہ سے گورنر کی ہٹ دھرمی کے باعث آئینی بحران چل رہاتھااور میں نہ مانوں کا سلسلہ بھی جاری تھا جس کے باعث ابھی تک اپنی کابینہ نہیں بناسکے۔انہوں نے کہا کہ عمران نیازی خود کش بمبار بن کر سسٹم پر گرنا چاہتا ہے لیکن اب اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران نیازی نے اپنے چار سالوں میں معیشت اور بیڈ گورننس و کرپشن کے ذریعے ملک کا بیڑا غرق کردیا اور اسے 2400ارب روپے کا مقروض بنادیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گزشتہ چار سالوں میں جتنی کرپشن ہوئی ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ ہم انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے لیکن جس نے جو جو لوٹا اسے اس کا حساب تو دینا ہی ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ عمران نیازی کی ایما پر پنجاب میں سوا ماہ عجیب و غریب آئینی جنگ چلتی رہی لیکن جس دن سے انہوں نے حلف اٹھایا ہے وہ اسی دن سے دن رات متحرک اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں لیکن وہ جس حال میں صوبہ چھوڑ کر گئے تھے، بزدار اور گوگی نے اس کی تباہی مچا کر رکھ دی ہے لیکن اب پھر وہ وہیں سے کام شروع کررہے ہیں جہاں سے چھوڑ کر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی کے تیس فیصد کیمرے خراب ہیں جس سے امن و امان کے مسائل پیدا ہورہے ہیں لیکن وہ ایسے افسر لیکر آرہے ہیں جونہ صرف اس بگاڑ اور تباہی کو ان کے ساتھ مل کر درست بلکہ عوام کی خدمت کیلئے دن رات ایک بھی کردیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ان کیلئے عوامی مفاد سب سے مقدم ہے لہٰذا وہ آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہوئے سیاسی میدان میں اتحادیوں سے مل کر مخالفین کا مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور میں 3200 ارب روپے کی ڈویلپمنٹ کی، 12000 میگا واٹ کے بجلی کے منصوبے لگائے، موٹر ویز بنائیں اور دیگر میگا پراجیکٹ کو مکمل کیا مگر اس کے برعکس عمرانی حکومت نے کوئی میگا پراجیکٹ نہیں لگایا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کے مسائل انتہائی گھمبیر ہیں جبکہ معاشی بدحالی کا بھی سامنا ہے جس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر پالیسیاں بنائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ پہلے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر انتخابی اصلاحات کرلی جائیں پھر منصفانہ انتخابات کروادیئے جائیں اور جو بھی سیاسی جماعت عوام کا مینڈیٹ لیکر آئے وہ اس حوالے سے اقدامات ممکن بنائے۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ اگر اللہ نے ان کو موقع دیا تو وہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں قائداعظم کا پاکستان بناکر دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ کوئی بلند و بانگ دعوے نہیں کرتے اور نہ کہتے ہیں کہ راتوں رات سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا لیکن وہ ہنگامی بنیادوں پر کئی ایسے اقدامات کرنے جارہے ہیں جس سے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے گا۔انہوں نے کہا کہ عمرانی حکومت نے تمام اداروں کو نشانہ بنایا اور کہا کہ سپریم کورٹ رات کو کیوں کھلی لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ رات کو نہ کھلتی تو ملک بنانا ری پبلک بن جاتا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ عوام کے مسائل مہنگائی میں کمی، بیروزگاری کا خاتمہ اور سر چھپانے کیلئے چھت ہے جس کیلئے وہ نیک نیتی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے اندھیروں کو اجالے میں بدلا تھا اسی طرح عوام کا اعتماد لیکر اللہ کی مدد سے آئندہ عام انتخابات میں پھر سرخرو ہوکر خدمات کا تسلسل جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی ترجیحات طے کرلی ہیں اور وہ حکمت عملی اپنائی جارہی ہے کہ جس سے مہنگائی سے ستائی ہوئی عوام کو ریلیف ملے۔
فیصل آباد میں صحافی کالونی کے قیام کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اس ضمن میں بغور جائزہ لیکر آگے بڑھیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق وزیراعلیٰ کے الیکشن کے بعد انہیں پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کے بعض دیگر سوالات کے جوابات بھی دیئے۔
سورس: وی این ایس،فیصل آباد











