اسلام آباد۔25جون (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سابق دور میں پی ٹی وی پر کرکٹ رائٹس کے نام پر ڈاکہ ڈالا گیا، اے آر وائے کو کرکٹ حقوق دلوانے کے لئے سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں، عمران خان کے کہنے پر سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پی ٹی وی کو نقصان پہنچانے کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کیا، انہوں نے وہ جرم کیا ہے جس کی معافی نہیں ملے گی، پی ٹی وی پر حملہ کرنے والوں نے حکومت میں آ کر پی ٹی وی کا معاشی قتل کیا، سوچی سمجھی سازش کے تحت پی ٹی وی کے حقوق غیر قانونی طور پر کسی دوسرے چینل کو دیئے گئے، جب ”اے سپورٹس”کو کرکٹ دکھانے کے حقوق دیئے گئے تو اس وقت اس کے پاس لائسنس ہی نہیں تھا، غیر قانونی ڈیل کے نتیجے میں پی ٹی وی کو اب تک 52 کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے، پی ٹی وی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے نتائج آج پی ٹی وی بھگت رہا ہے، پی ٹی وی سپورٹس واحد سکرین ہے جس سے پی ٹی وی ریونیو حاصل کرتا ہے لیکن پی ٹی آئی کے دور میں اس ریونیو کو خسارے میں تبدیل کیا گیا، قومی مفاد پر سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے، پی ٹی وی کو اس کا حق واپس دلا کر رہیں گے۔ ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی قومی نشریاتی ادارہ اور ریاست کی آواز ہے، یہ پاکستان کی قومی شناخت ہے، اسی ادارے کی وجہ سے باقی براڈ کاسٹرز نے بھی جنم لیا۔ انہوں نے کہا کہ آج صحافت مکمل طور پر آزاد ہے، میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی سپورٹس واحد سکرین ہے جس سے پی ٹی وی ریونیو حاصل کرتا ہے، اس کے علاوہ پاکستان کے عوام 35 روپے لائسنس فیس کی مد میں پی ٹی وی کو ادا کرتے ہیں، ان ذرائع آمدن سے پی ٹی وی اپنے اخراجات پورے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے میں عمران خان نے اس ادارے پر حملہ کروایا اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیں۔ عمران خان نے اس وقت اپنی ٹیم اور اپنے کارکنوں کو شاباش دی، اس کے بعد جب 2018ء میں پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو انہوں نے اس ادارے کا معاشی قتل شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے کہا کہ پی ٹی وی اور ریڈیو کو بی بی سی ماڈل پر سمارٹ نیشنل براڈ کاسٹر بنایا جائے گا لیکن انہوں نے ریڈیو اور پی ٹی وی کی عمارتوں کو نیلام کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2022ء میں جب ہماری حکومت آئی تو معلوم ہوا کہ پی ٹی وی سپورٹس کے کرکٹ رائٹس کے لئے گروپ ایم اور اے آر وائے کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے، اس پر ہم نے اپریل 2022ء میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی جس کی دو ماہ تک تحقیقات جاری رہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس آسان راستہ تھا کہ پہلے روز ہی فوری طور پر اس موضوع پر پریس ٹاک کر کے الزام عائد کر دیا جاتا اور ان لوگوں کو جیلوں میں ڈال کر بھول جاتے۔ انہوں نے کہا کہ سابق دور میں پی ٹی وی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے نتائج آج پی ٹی وی بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی اور ایم گروپ، اے آر وائے کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت پی ٹی وی سپورٹس نے کرکٹ رائٹس کو ایکوائر کر کے وہ رائٹس اے آر وائے کو دینے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 ستمبر 2021ء تک یہ رائٹس پی ٹی وی سپورٹس چینل کے پاس تھے، پی ٹی وی سپورٹس اسی ذریعے سے ریونیو حاصل کرتا ہے اور عوام کو کرکٹ دکھاتا ہے، 16 ستمبر 2021ء کو معاہدے پر دستخط کر کے ان حقوق پر سمجھوتہ کیا گیا، اس معاہدے کے ذریعے پی ٹی وی سپورٹس کے کرکٹ رائٹس پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی کے کرکٹ رائٹس کسی دوسرے چینل کو دینے کا باقاعدہ منصوبہ تیار کیا گیا۔ پی ٹی وی سپورٹس نے کہا کہ ہمارے پاس رائٹس ایکوائر کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں، ہمیں اس منصوبے میں اظہار دلچسپی طلب کرنا چاہئے، پی ٹی وی کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ اس کام کے لئے پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی وہ ادارہ ہے جس کا 100 فیصد شیئر حکومت پاکستان اون کرتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابق دور میں پی ٹی وی سپورٹس کو تباہ کیا گیا۔ سابق حکومت پی ٹی وی کو نیلام کرنے جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اظہار دلچسپی کیلئے اشتہار ایک اخبار میں 10 اگست 2021ء کو شائع ہوا، اس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے حوالے سے چیزیں شامل کی گئیں، تین دن کے بعد انہیں خیال آیا کہ اظہار دلچسپی کے اس منصوبہ پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوگا تو اس کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لئے بڈز طلب کی گئیں۔ تین دن کے بعد 13 اگست کو منگوائی گئی بڈز کو ریوائز کرنے کے لئے addendum شائع کیا گیا، اس کے اندر بولیاں وصول کرنے کی تاریخ کو 27 اگست کر دیا گیا، ایک addendum میں کہا گیا کہ ہمیں سیٹلائٹ سپیشلائزڈ سپورٹس براڈ کاسٹر چاہئے، اس کے اندر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پی ٹی وی سپورٹس کو ایس ڈی سے ایچ ڈی کرنے کے لئے انفراسٹرکچرل معاونت بھی چاہئے۔ ایک ترمیم میں کہا جاتا ہے کہ کیبل اور سیٹلائٹ براڈ کاسٹر کی ضرورت ہے کیونکہ ٹین سپورٹس اور آئی سی سی رائٹس کے لئے پری ریکوزیشن کے وقت اظہار دلچسپی کے نوٹس میں بڈز منگواتے وقت یہ شرط نہیں ڈالی گئی تھی۔











