اسلام آباد، 08جون (اے پی پی): قومی سلامتی سے متعلقہ امور پر میڈیا کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا اہم کردار ہے۔ تیزی سے بدلتی عالمی صورتحال میں پاکستان کی قومی سلامتی کو مُختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نبرد آزما ہونے کیلئے حقائق پر مبنی میڈیا رپورٹنگ معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ بات مقررین نے دو روزہ “قومی سلامتی معاملات پر رپورٹنگ” میڈیا ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ورکشاپ کا انعقاد وزارت اطلاعات کے ذیلی ادارے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور اسلام آباد سٹراٹیجیک اسٹڈیز انسٹیٹیوٹ کے اشتراک کیا گیا تھا۔ ورکشاپ میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
ورکشاپ سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے پریس انفارمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری ارشد منیر نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کو تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ورکشاپس کا زیادہ سے زیادہ انعقاد ہونا چاہیے۔
ورکشاپ کے دوران قومی سلامتی اور بین الاقوامی امور پر ماہرین اور محققین نے مُختلف موضوعات پر گفتگو کی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کو درپیش چیلنجز اور ان سے نبرد آزما ہونے کیلئے پاکستان کے پاس دستیاب مواقعوں پر روشنی ڈالی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کا قومی بیانیہ اس وقت کی خطے کی صورتحال اور خارجہ پالیسی کے مطابق ہوتا ہے۔ پاکستانی میڈیا نے جہاں کئی اہم مواقعوں پر اپنا شاندار کردار نبھایا ہے ، وہیں قومی مفاد اور قومی بیانیے کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کا تعلق محض جغرافیائی تحفظ ہی نہیں بلکہ عذائی تحفظ، بہتر معیشت، آبی دستیابی اور عوام کے معاشی اور سماجی تحفظ بھی قومی سلامتی کا حصہ ہیں۔
ورکشاپ کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی و سابق سفیر اعزاز چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈیا اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ مؤثر روپرٹنگ کیلئے میڈیا کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھا جاسکے۔
ورکشاپ کو موضوعات کے لحاظ سےمُختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر سیشن میں سوال و جواب کا سلسلہ بھی رکھا گیا جس میں شرکاء کی طرف سے مُختلف سوالات کیے گئے اور معاملات پر جائزہ بھی پیش کیا گیا۔
مقررین میں سابق سفارتکار خالد محمود، ڈاکٹر طلعت شبیر، ڈاکٹر آمنہ خان، نگہت احسان، ڈاکٹر امبرین، ڈاکٹر ارشد، ڈاکٹر قاسم ملک، معروف سینئیر صحافی و تجزیہ کار عامر ضیاء، عامر جہانگیر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔











