مشائخ و متحدہ علماء بورڈکا ملکی، سلامتی ومسائل کے حل کیلئے حکومتی مذاکرات کی دعوت کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان

10

لاہور،11جون  (اے پی پی):ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ اور متحدہ علماء بورڈ نے پاکستان کے استحکام، سلامتی اور قومی مسائل کے حل کیلئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے مذاکرات کی دعوت کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہوئے سیاسی و مذہبی قائدین سے اپیل کی ہے کہ وطن عزیز کو موجودہ حالات سے نکالنے کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں،وزیر اعظم نے ہندوستان میں توہین ناموس رسالتۖ پر واضح موقف اپنا کر  مسلم امہ کے جذبات کی ترجمانی کی، حکو مت ناموس رسالتۖ کے مسئلہ پر اقوام متحدہ سے قانون سازی کیلئے مسلم سربراہان اور دیگر عالمی قائدین سے رابطہ کرے، پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیاں کبھی بھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔

ان خیالات کااظہار علماء بورڈ اور مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ چیئرمین متحدہ علماء بورڈ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، علامہ عارف واحدی، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد خان لغاری، علامہ عبد الحق مجاہد، مولانا محمد رمضان سیالوی، علامہ محمد حسین اکبر، پروفیسر ڈاکٹر ابو بکر صدیق، حافظ زبیر فضل الرحمن، مولانا عبد الوہاب روپڑی، مفتی محمد علی نقشبندی، پروفیسر ظفر اللہ شفیق، مولانا افضل حیدری، علامہ سید حسن رضا ہمدانی، علامہ قاضی نادر علوی اور دیگر نے ہفتہ کے روز اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

رہنمائوں نے کہا کہ پاکستان جن مسائل کا شکار ہے اس کا حل مذاکرات میں ہے، ملک سے انتہا پسندی کا خاتمہ ہوا ہے، سیاسی انتہاپسندی کو بھی ختم ہونا چاہیے، وزیر اعظم نے مذاکرات کی جو دعوت دی ہے اسے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو قبول کرنا چاہیے، ملک کے سلامتی کے اداروں، افواج پاکستان اور سپہ سالار قوم کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے خاتمے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، پاکستان دشمن طاقتوں کا منصوبہ ہے کہ قوم اور فوج میں تقسیم پیدا کریں جو ناکام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں افواج پاکستان نے جو قربانی دی ہے وہ قابل تحسین ہے، پاکستان کا دفاعی بجٹ ہندوستان سے سات فیصدکم اور کئی اہم اسلامی ممالک سے بھی کم ہے، پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیاں کبھی بھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔

رہنمائوں نے تمام اکابرین، علماء و مشائخ کی طرف سے پاکستانی قوم کا بالخصوص اورپورے عالم اسلام کا بالعموم شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جس طرح کل پورے ملک کے اندر اور پورے عالم اسلام میں یوم حرُمت رسول ۖ منایا گیا ہے، الحمدللہ پورے ملک میں پُر امن احتجاج ہوا، کہیں کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی، کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا اور ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا، ہندوستان میں ناموس مصطفیٰ ۖ کی جو اہانت کی گئی ہے وہ حکمران جماعت کے لیڈروں کی طرف سے کی گئی ہے، اس پر پورا عالم اسلام، عالمی دنیا سراپا احتجا ج ہے، اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی اس پر تمام اسلامی ممالک کا واضح موقف دی چکی ہے، تمام اسلامی ممالک میں ہندوستان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے اور بائیکاٹ ہو چکا ہے، پہلا مطالبہ ہندوستان کی حکومت سے یہ ہے کہ ان مجرموں کو گرفتار کیا جائے اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے، دوسرا یہ کہ سرکاری سطح پر ہندوستان کی حکومت اس پر معافی مانگے، عالم اسلام میں پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مسلم حکمرانوں میں سب سے پہلے آواز کو بلند کیا ۔متحدہ علماء بورڈ یہ سمجھتا ہے کہ وزیر اعظم کو تمام مسلم حکمرانوں سے اور دنیا کے اہم ممالک سے اس مسئلے پر بات کرنی چاہیے اور جس طرح پاکستان نے اسلامو فوبیا پر کوشش کی اور الحمدللہ آج اقوا م متحدہ نے اسلامو فوبیا پر ایک قرارداد اور ایک دن مقرر ہو گیا، اسی طرح اقوام متحدہ میں تمام آسمانی کتب اور تمام انبیاء و رسل کا تقدس ہے اس پر قانون سازی ہو اور عالمی سطح پر اس کو جرم قرار دیا جائے،اسلامی تعاون تنظیم کی وزراء خارجہ کی سربراہی ایک سال کیلئے پاکستان کے پاس موجود ہے۔ وزیر خا ر جہ بلاول بھٹو زرداری تمام اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ سے رابطہ کر کے اس حوالے سے اپنی کوششوں کو ان شاء اللہ آگے لے کر جائیں گے۔ متحدہ علماء بورڈ نے اب تک پانچ سو سے زائد نصابی کتب کو الحمدللہ ان کو کلیئر کیا جو اس وقت نصاب کا حصہ بن چکی ہیں، 200 سے زائد مقدمات مختلف عدالتوں سے آئے ان کو الحمدللہ کلیئر کیا، ہم یہ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران ملک کے اندر ایک کیس بھی ایسا درج نہیں ہوا ہے جس میں توہین ناموس رسالت کا غلط استعمال ہوا ہو، اگر کہیں کو ئی مسئلہ ہوا ہے تو ہم نے اس کو دیکھا ہے اور قرآن و سنت کے مطابق اور پاکستان کے آئین اور دستور کے مطابق اس کا فیصلہ کیا ہے،اسی طرح اقلیتوں کے ساتھ متحدہ علماء بورڈ نے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ہم نے طے کیا ہے پی ٹی اے، وزارت اطلاعات، آئی ایس پی آر اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر محرم الحرام سے پہلے ایک سوشل میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق مذہبی اعتبار سے پیش کریں گے تا کہ کسی کو شر پھیلانے کا موقع نہ مل سکے۔