لاہور ،04 جون (اے پی پی): وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر اعلی پنجاب نے کابینہ پٹرول الاؤنس مکمل ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور تمام صوبائی محکموں کے پٹرول اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اورصوبائی کابینہ کے ارکان سرکاری پٹرول نہیں لیں گے اور سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پٹرول اخراجات خود ادا کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ میں اضافے کے حوالے سے عوام کی مشکلات کا پورا احساس ہے، بچت کا آغاز خود سے کریں گے۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ حکومتی سطح پر بچت،کھاد کی فراہمی اور دیگر اشیاء ضروریہ کے نرخ کے حوالے سے اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
اجلاس میں وفاقی حکومت کوچینی کی ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینے کی تجویز پیش کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لئے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے اورضرورت مند طبقے کو اشیا ضروریہ میں سبسڈی کے لئے تاریخی اقدامات کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کھاد کی ذخیرہ اندوزی کاشتکار پر ظلم کے مترادف ہے۔ کھاد اور دیگر اشیاء ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔
صوبائی وزرا خواجہ سلمان رفیق،سردار اویس لغاری،ملک محمد احمد خان،عطااللہ تارڑ،ایم پی اے مجتبیٰ شجاع، ذیشان رفیق، چیف سیکرٹری، پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلیٰ،متعلقہ سیکرٹریز اور حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔











