اسلام آباد،15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کابینہ اجلاس پرمیڈیابریفنگ میں کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا، اس فیصلے میں اٹھائے گئے نکات پر عمل درآمد، آرٹیکل 6 کی کارروائی سمیت مستقبل کے اقدامات کے بارے میں تجاویز کی تیاری کے لئے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ وزیرقانون بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں داخلہ، اطلاعات کے وفاقی وزراء کے علاوہ اتحادی جماعتوں کی نمائندگی شامل ہوگی۔ یہ خصوصی کمیٹی اپنی تجاویز مرتب کرکے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ کی منظور کردہ قرارداد میں کہاگیا کہ آئین کی سربلندی پر مبنی عدالت عظمی کا تفصیلی فیصلہ قابل تحسین ہے جس نے نظریہ ضرورت کو دفن کردیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق حکومت اور اس کے عہدیداروں کے خلاف فرد جرم ہے۔ یہ ثابت ہوگیا کہ سابق حکومت نے آئین شکنی کی۔ تحریک عدم اعتماد کے خلاف 3 اپریل 2022 ء کو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو غیرآئینی اور قومی اسمبلی کی تحلیل کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلی فیصلے نے تمام حقائق پوری طرح واضح کردئیے ہیں کہ غیرملکی سازش کا بیانیہ من گھڑت ، جھوٹا اور بے بنیاد تھا جس کے ذریعے وطن عزیز کی معاشی سلامتی کے ساتھ ساتھ اہم خارجہ مفادات کو بھی ہوس اقتدار کی بھینٹ چڑھانے کی سنگین کوشش کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ معزز عدالت نے بجا طور پر یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اگر یہ اتنا ہی سنگین معاملہ ہوتا تو اس وقت کی حکومت نے اس پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ بلکہ اس پر خاموشی اختیار کی۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے اس سازشی بیانیہ کو ایک نہیں دو بار رد کیا۔ قرارداد میں اتفاق کیا گیا کہ بحیثیت قوم آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آئین، جمہوریت، پارلیمنٹ اور عوام کے حق حکمرانی پر شب خون مارنے کا یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے روک دیا جائے۔ عدالت عظمی کا تفصیلی فیصلہ اس ضمن میں سنگ میل ہے لہذا متفقہ طور پر کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جو عدالت کے تفصیلی فیصلے کی روشنی میں اقدامات تجویز کرے گی۔











