فیصل آباد،08اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض احمد نے کہا کہ عمران خان نے 13 اگست کواسلام آباد میں جلسہ کی کال فتنہ فساد پھیلانے کیلئے دی ہے جس میں وہ پنجاب ا ور کے پی کے سے تمام سرکاری ملازمین اور کارکنان کواسلام آباد اکٹھا کرکے ڈی چوک جانے کی کال دے گا،حکومت فوری اس ضمن میں پیشگی اقدامات یقینی بنائے تاکہ خان کو فتنہ فساد سے روکا جاسکے نیز وہ پی ٹی آئی کے باغی کارکن کی حیثیت سے عمران خان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا گھنائونا چہرہ عوام کے سامنے آجانے پراب فوری طور پر پی ٹی آئی کے چیئرمین کے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔
پیر کی دوپہر راجے والا فیصل آباد میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب میں راجہ ریاض نے کہا کہ عثمان بزدار نے اپنے وزارت اعلیٰ کے دور میں لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا تھا اور ہر قسم کے تقرر و تبادلوں میں پیسے لئے جاتے تھے جبکہ اس کے تمام قریبی عزیز بھی سنگین کرپشن میں برابر کے شریک تھے اور فرح گوگی کے ذریعے بھی بھاری رقوم اکٹھی کی جارہی تھیں لیکن عمران خان نے علم ہونے کے باوجود اس کا کبھی نوٹس نہیں لیا جس پر وہ عمران خان سے اصولی اختلاف کرنے لگے اور بعدازاں جہانگیر ترین گروپ میں چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہیلی کاپٹر حادثے کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے اورشہدا کی مغفرت و درجات کی بلندی کیلئے دعاگو ہیں جبکہ پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی اور شہیدوں کے غم میں برابر کی شریک ہے مگرپی ٹی آئی ورکرز کی جانب سے سوشل میڈیا پراس ضمن میں گھناؤنی حرکت کی گئی جس کی وہ بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہر قسم کی دھمکیوں، دباؤ اور لالچ کو بالائے طاق رکھ کر آٹھ سال تک فارن فنڈنگ اور عمران خان کی اربوں روپے کی کرپشن کا کیس لڑا اور با لآخر اس میں کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ وہ باغی رکن کی حیثیت سے اکبر ایس بابر کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں عمران خان کا ایک بڑاگروپ ہے جو اس پر قابض ہے اور عام کارکن کی بات ان تک نہیں پہنچنے دیتا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے مگر عمران خان کو اس کا بہت دکھ ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے پرانہوں نے کہا کہ یہ قانونی فیصلہ ہے اورحکومت آئندہ کی کارروائی کے حوالے سے اپنا رول ادا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشنر ایک ایماندار آدمی ہے جو عمران خان کا ہی لگایا ہوا ہے لیکن اب پسند کا فیصلہ نہ آنے پر وہ اس کے خلاف ہوگئے ہیں۔











