چترال: کیلاش قبیلے کا سالانہ تہوار اوچال، تمام تر رنگینیوں اورعنائیوں کیساتھ اختتام پذیر،ملکی اورغیرملکی سیاخوںکی بھرپورشرکت

30

چترال،25 اگست (اے پی پی ): کیلاش قبیلے کا سالانہ تہوار اوچال اپنی تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کیساتھ   اختتام پذیر ہو گیا ہے ،یہ تہوار فصل کی کٹائی کے وقت منایا جاتا ہے۔ وادی کیلاش میں جب انگور پکتا ہے تو اسے اتارتے وقت ایک خاص قسم کا رسم منایا جاتا ہے اور ان انگور کو  دیگر تہوار کیلئے بھی رکھا جاتا ہے جبکہ اس سے ایک خاص قسم کا شراب بھی بنتا ہے جسے انگوری پانی کہلاتا ہے۔اوچال تہوار مناتے وقت کیلاش لوگ دودھ سے بنی ہوئی چیزیں مثلاً  پنیر، پینک وغیرہ اکھٹا کرکے دوست احباب اور رشتہ داروں کو بھی بھیجتے ہیں۔

بارش کے باوجود سینکڑوں غیر ملکی سیاح اوچال دیکھنے کیلاش آئے تھے جن میں تقریبا ًہر ملک کی نمائندگی موجود تھی۔اس تہوار میں کیلاش لوگ اپنے عقیدے کے مطابق بکرا کاٹ کر قربانی بھی کرتے ہیں اور اس کا خون ان کے مذہبی مقامات پر چڑھکایاجاتا ہے،چونکہ یہ ایک مذہبی تہوار ہے اوریہاں کے لوگ اسے خود مناتے ہیں  مگر امسال پہلی بار صوبائی حکومت نے ان لوگوں کے ساتھ مالی طور پر تعاون کیا  اور محکمہ اوقاف و اقلیتی امور کی جانب سے کیلاش کے چیف قاضی کو نقد تین لاکھ روپے دئے گئے تاکہ ان تینوں وادیوں میں اوچال کی تہوار منانے  والے لوگوں کے ساتھ مالی طور پر مدد ہو۔

   کیلاش کے مذہبی رہنماء جن کو قاضی کہلاتا ہے حال ہی میں سات مزید قاضی مقرر ہوئے ان کو بھی پچاس ہزار روپے کا اعزازیہ دیا گیا اور یتیم بچوں میں بھی امدادی چیک تقسیم کئے گئے جبکہ 550 لوگوں میں بھی چار ہزار آٹھ سو روپے کے چیک تقسیم کئے گئے۔ان لوگوں کے ساتھ یہ مالی امداد  کیلاش کے ایک بیٹے کی کوششوں کی بدولت ممکن ہوئی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ کیلئے اقلیتی امور پر معاون خصوصی وزیر زادہ کیلاش نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ کیلاش لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے۔ اس موقع پر انہوں نے مسلم کمیونٹی کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ان مسلمانوں  کی پیار محبت اور ان کی تعاون کی وجہ سے آج کیلاش لوگ نہایت آزادی کے ساتھ رہتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ یا مشکلات کے اپنے مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

اوچال تہوار کو دیکھنے کیلئے اقلیتی امور پر ون مین کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹر شعیب سڈل، خیبر پختون خواہ حکومت کی صوبائی سیکرٹری برائے اوقاف  محمود اسلم، ایڈیشنل سیکرٹری عبد الغفور شاہ، ڈپٹی کمشنر چترال،  کوہاٹ سے اقلیت کے مخصوص نشست پر رکن صوبائی اسمبلی سردار رنجیت سنگھ سمیت مختلف ممالک سے سیاح آئے ہوئے تھے۔

  ان غیر ملکی سیاحوں  نے اس موقع پر اے پی پی  سے بات کرتے ہوئے  کہا کہ  کیلاش بہت خوبصورت وادی ہے اور یہاں کے لوگ نہایت اچھے، با اخلاق اور مہمان نواز ہیں۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور چترال کا مثالی امن تو پوری دنیا میں مشہور ہے ۔انہوں نے مغربی میڈیا میں پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈے کو رد کیا  اور کہا کہ پاکستان میں ہم نے کسی قسم کی دہشت گردی  نہیں دیکھی۔

سردار رنجیت سنگھ نے بتایا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو جتنی آزادی حاصل ہے کاش کہ اس کے نصف کے برابر بھی ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں مسلم اقلیتوں کو ملتی تو ہم بہت خوش ہوتے۔

کیلاش سے تعلق رکھنے والی ایک کالج کی طالبہ ششمیتا نے سب لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی درخواست کی کہ بعض ناعاقبت اندیش لوگ سوشل میڈیا میں کیلاش خواتین کے بارے میں نہایت غلط اور من گھڑت قصے  پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ کیلاش لوگ نہایت مہمان نواز ہیں اور آنے والے مہمانوں کو اپنے گھروں میں لے جاکر ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں جس سے بعض گندے ذہن کے لوگ غلط فائدہ اٹھاتا ہے۔

عیسائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ماہر نفسیات نے بتایا کہ میں نے کہیں بھی اتنی رنگینی اور قدرتی حسن نہیں دیکھا تھا میں اس سے بہت متاثر ہوئی اور دل کرتا ہے کہ بار بار یہاں آؤں۔

 اوچال تہوار کی آخری رسومات رات بھر جاری رہی اور بارش اور سردی کے باوجود کثیر  تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح یہاں موجود تھے اور اس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔تہوار میں کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماؤں جن کو قاضی کہلاتا ہے آنے والے وقت کو خوشی کا باعث بننے کی دعائیں بھی مانگی۔