پشاور،26 اگست(اے پی پی): گورنر خیبرپختونخوا مشتاق احمد غنی کی زیرصدارت شہید بینظیر بھٹو وویمن یونیورسٹی کی خصوصی سینٹ کا گورنر ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں مذکورہ یونیورسٹی میں غیر قانونی تعیناتیوں سے متعلق گورنر انسپکشن ٹیم کی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی۔
اجلاس میں پرو-وائس چانسلر کے اختیارات سے تجاوز کرنے اور غیر قانونی فیصلوں سے متعلق محکمہ اعلیٰ تعلیم کی انکوائری رپورٹ جبکہ چئیرمین گورنر انسپکشن ٹیم نے سینٹ اجلاس کو انکوائری رپورٹ کی تفصیلات اور سفارشات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مذکورہ یونیورسٹی میں انتظامی و دیگر عہدوں پر تعیناتیوں میں میرٹ، متعلقہ تجربہ و اہلیت کو نظر انداز کیا گیا، اسی طرح سابقہ وائس چانسلر شہید بینظیر بھٹو وویمن یونیورسٹی نے بھی مختلف تعیناتیوں میں میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے اختیارات سے تجاوز کیا۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کی انکوائری رپورٹ سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ پرو وائس چانسلر نے بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور انتظامی و تعیناتیوں سے متعلق غیر قانونی فیصلے کئے۔
سینٹ اجلاس میں متفقہ طور پر گورنر انسپکشن ٹیم اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کی دونوں انکوائری رپورٹس کو مذکورہ یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کو بجھوانے کے فیصلہ کے بعد سینڈیکیٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ جی آئی ٹی اور محکمہ اعلیٰ کی دونوں انکوائری رپورٹس کا یونیورسٹی کے ماڈل اسٹیوٹس اور یونیورسٹی ایکٹ کی روشنی میں دیکھے۔
سینڈیکیٹ کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ انکوائری رپورٹس سے متعلق ایکشن لیکر 30 روز کے اندر سینٹ کو رپورٹ پیش کرے۔
اجلاس میں چیئرمین گورنر انسپکشن ٹیم احمد حسن، اسپیشل سیکرٹری محکمہ اعلٰی تعلیم راشد پائیندہ خیل، قائمقام پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر سیف الاسلام، محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ، ہائرایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں سمیت وائس چانسلر شہید بینظیر بھٹو وویمن یونیورسٹی کے علاوہ سینٹ کے دیگر اراکین موجود تھے۔











