اسلام آباد، 03 اگست (اے پی پی): 05 اگست 2019 ء بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ،اس دن بھارتی حکومت نے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35اےکی دفعات کو منسوخ کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانونی ملکی آئینی حیثیت کو تبدیل کرتے ہوئے کشمیریوں پر ظلم کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔
آرٹیکل 370 مقبوضہ ریاست کو خصوصی حیثیت دیتا تھا جبکہ آرٹیکل 35 اے کے تحت یہ واضح کیا گیا تھا کہ کون مقبوضہ کشمیر کا مستقل شہری ہے اور کون زمین خرید سکتا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کرنے،مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنےکے بھارتی اقدامات، متنازعہ علاقوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قراردادوں کی خلاف ورزی کی نمائندگی کرتے ہیں۔5اگست کے اقدامات کے ذریعے مودی حکومت ہندو انتہاء پسند تنظیموں کے دیرینہ مطالبات کو پورا کرنے کیلئے ہندوستانیوں کو کشمیر میں آباد کرنے کی راہ ہموار کرنے کی سازش ہے۔6 مارچ 2020 ءکو حد بندی کمیشن اور 31 مارچ 2020 ءکو ڈومیسائل قانون کے نفاذ کے علاوہ مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور کسی بھی ریفرنڈم کے نتائج کو متاثر کرنے کے حتمی مقاصد کے ساتھ آبادیاتی تبدیلی جاری ہے۔
کشمیریوں کو ان کے آبائی وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑی تعداد میں جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں اور 2019ءسے 2022ءکے دوران بھارتی حکومت نے ان مقاصدکے حصول کیلئے وہاں کثیر تعداد میں ہندوؤں کی آبادکاری کی ہے جس نے مقبوضہ کشمیر اور کشمیریوں کے مستقبل کو شدید ترین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
مقبوضہ وادی کشمیر پر دہائیوں سے جاری بھارت کا غیر قانونی قبضہ اور مظالم صدی کے سب سے بڑے انسانی بحران اور المیے میں تبدیل ہو چکے ہیں جو عالمی برادری کی خصوصی توجہ کا طالب ہے لیکن آج بھی کشمیر کے غیور عوام مایوس نہیں ہیں کیونکہ آج بھی انہیں یقین ہے کہ شہید کشمیریوں کا خون کشمیریوں کی آزادی کی راہ ہموار کرے گا۔











