لاہور7 ستمبر(اے پی پی): کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے امور قانون سازی نے 664 نابینا افراد کو ڈیلی ویجز پر بھرتی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین، صوبائی وزیر پارلیمانی امور، کوآپریٹوز و تحفظ ماحول محمد بشارت راجہ کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ہوا۔ وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں، وزیر مواصلات و تعمیرات علی افضل ساہی، وزیر قانون شہزاد خرم ورک اور متعلقہ سیکرٹری صاحبان بھی شریک ہوئے۔ سیکرٹری سوشل ویلفیئر و بیت المال نے صوبے کے مختلف سرکاری محکموں میں خالی اسامیوں کی تفصیل پیش کی۔ چیئرمین کمیٹی محمد بشارت راجہ نے سپیشل افراد کی بھرتی میں لیت و لعل پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہی کی ہدایت کی روشنی میں سپیشل افراد کے 3 فیصد کوٹے پر بھرتی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد اگر محنت کرکے اپنی روزی کمانا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔ انہوں نے گزشتہ اجلاسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام تمام ڈپٹی کمشنرز سپیشل افراد کی بھرتی میں سہولت کار کا کردار ادا کریں تو صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔ راجہ بشارت نے سیکرٹری سوشل ویلفیئر کو تمام سیکرٹریز سے اسامیوں پر بھرتی کی تفصیل لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سپیشل افراد کو نوعمری میں ہی ہنرمند بنانے کا طویل المدت منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ ان کی جسمانی صلاحیتوں کے مطابق ملازمتوں کے مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ کمیٹی نے ایچیسن کالج لاہور، لارنس کالج گھوڑا گلی کے بورڈ کی تشکیل نو کا نوٹیفیکشن جاری کرنے کی بھی منظوری دی تاہم ٹیوٹا کے معاملات میں مزید بہتری کے لئے پنجاب اپرنٹس شپ ایکٹ کے تحت مجاز اتھارٹی کی تعیناتی کا معاملہ موخر کر دیا۔











