خیبرپختونخوا کی پوری حکومت اسمبلی سے دھتکارے ہوئے عمران خان کو اقتدار میں لانے میں مصروف ہے؛وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

31

اسلام آباد،10اکتوبر  (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی پوری حکومت اسمبلی سے دھتکارے ہوئے عمران خان کو اقتدار میں لانے میں مصروف ہے، صوبے کے وسائل عمران خان استعمال کر رہے ہیں۔

پیر کو قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کے واقعات کے حوالے سے اراکین کی طرف سے اٹھائے گئے نکات پر وزیر دفاع نے کہا کہ سابق وزیراعظم  عمران خان نے خیبرپختونخوا کو سپرنگ بوٹ بنایا ہوا ہے، صوبے کی تمام تر سہولیات جس میں ہیلی کاپٹر اور پولیس فورس بھی شامل ہے، وہ عمران خان کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ سابق وزیراعظم کو جب اس ایوان سے عدم اعتماد کے ذریعے دھتکارا گیا تو انہوں نے خیبرپختونخوا میں پناہ لی اور اب صوبائی حکومت کے سارے وسائل ان کے استعمال میں ہیں۔ پرسوں اڈیالہ کے قریب خیبرپختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر میں ہی ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صوبے میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، امن و امان کی صورتحال خراب ہے، امن و امان کے حوالے سے اولین ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے اس کے بعد کسی اور ایجنسی یا فورس کی ضرورت پڑتی ہے۔

 وزیر دفاع نے کہا کہ سوات اور صوبے کے دیگر علاقوں کو نظرانداز کیا گیا ہے کیونکہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی تگ و دو میں ہے جس سے صوبے کا عام آدمی متاثر ہو رہا ہے۔ اساتذہ کرام پر جو لاٹھی چارج ہوا اس پر ہمیں دکھ ہے، جو لوگ ہمارے بچوں کو پڑھا رہے ہیں ان کے ساتھ اس طرح کا ظالمانہ سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں قاعدہ 259 کے تحت ملک میں سیلاب کی صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کی وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے قیامت برپا ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ارکان کی آنکھیں نم ہوگئی ہیں، یہ دنیا کی تاریخ کا بدترین سیلاب تھا اس سے 33 ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں، ہمارے لوگ اب بھی ان حالات میں ہیں کہ انہیں ٹینٹ اور خوراک چاہیے، اب بھی 2008ء ملین لوگ شدید تکلیف میں مبتلا ہیں، اس صورتحال میں ملک کا معمول کا کاروبار کیسے چل سکتا ہے۔ 16 ہزار شاہراہیں بہہ گئی ہیں، پل تنکوں کی طرح بہہ گئے ہیں۔ ہمارے 1700 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں، 13 ہزار افراد زخمی ہوگئے ہیں، 33 ملین متاثرین میں سے 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں، ان خواتین میں 6 لاکھ سے زائد خواتین حمل سے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے پوری دنیا میں یہ مقدمہ لڑا ہے۔ کوئی حکومت تن تنہا یہ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ان متاثرہ افراد کو باعزت طور پر اپنے گھروں میں مقیم کرنا ہے، حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق افراد میں 70 ارب روپے تقسیم کئے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمیں یہ مقدمہ اپنے ملک میں بھی لڑنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے ترقیاتی فنڈز بھی متاثر ہوئے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ملیریا اور دیگر وبائی امراض تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ سندھ کی کپاس کی فصل ختم ہوگئی اور ہماری فوڈ سیکیورٹی بھی خطرات سے دوچار ہے، ہماری آنے والی گندم کی فصل بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، ہم دنیا سے کوئی بھیک نہیں مانگ رہے، یہ ہمارا حق بنتا ہے کیونکہ گرین ہائوسز گیسز میں ہمارا حصہ ایک فیصد بھی نہیں بنتا۔

 قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملک میں سیلاب کی صورتحال پر بحث سمیت ایوان کی معمول کی کارروائی سمیٹی گئی جس کے بعد سپیکر راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا۔