اسلام آباد،6اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پوری دنیا بحرانی کیفیت سے گزر رہی ہے،کوویڈ کے معاشی بحران کے دھچکہ سے دنیا ابھی تک نہیں نکل سکی،پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی کا سامنا ہے،سیلابی آفت نے 33 ملین افراد کو متاثر کیا،پاکستان میں بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کا سب سے بڑا پراجیکٹ سی پیک تھا،سی پیک نے پاکستان کے انفراسٹرکچر کو بنانے میں مدد کی،توانائی کے شعبے میں ترقی کی۔
ایشین پروڈکٹویٹی آرگنائزیشن کے زیراہتمام عالمی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ استحکام کے بغیر کوئی سسٹم نہیں چل سکتا ،معیشت کی بہتری کیلئے گروتھ کی ضرورت ہے،گروتھ کیلئے انو یسٹمنٹ یا پروڈکٹویٹی میں اضافہ کی ضرورت ہوتی ہے،پیداواریت،مسابقت کیساتھ منسلک ہے،ایشین پراڈکٹویٹی آرگنائزیشن کیساتھ مل کر ہم نے پراڈکٹویٹی پلس اقدام پر سٹڈی کرائی،ہماری حکومت کو گھر بھیجا گیا تو پیداواریت سے متعلقہ اقدامات آگے نہ بڑھ سکے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ویژن 2025 شروع کیا تو پاکستان کو 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا،پاکستان میں انویسٹرز کو سکیورٹی رسک کا سامنا تھا،ہم دہشت گردی کیخلاف لڑے ،ہم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، 4 سال میں 11 ہزار میگاواٹ نئی بجلی سسٹم میں شامل کی،تمام جی 20 سفیروں نے مجھ سے میٹنگ کی اور کہا کہ کیسے ہم سی پیک کو جوائن کر سکتے ہیں،پھر 2018 میں حکومت تبدیل کر دی گئی۔انہوں نے کہا کہ پراڈکٹویٹی صرف استحکام اور پالیسی کے تسلسل سے آسکتی ہے،ہمیں ترقی کیلئے ایکسپورٹ کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ 6فیصد اقتصادی ترقی کے بعد ملک میں ڈالر کی قلت ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت کو ایمرجنسی بریک لگانی پڑتی ہے،اگر ہم زرعی شعبے کو عالمی معیار کے مطابق بنا لیں تو دس سے بارہ ارب ڈالر اضافی حاصل کرسکتے ہیں۔
اس موقع پر این پی او کے چیف ایگزیکٹومحمد عالمگیر چوہدری کے علاوہ اے پی او کے سیکرٹری جنرل اور دیگر شرکاء بھی موجود تھے۔











