پچھلے سال وفاقی محتسب کے ادارہ نے1 لاکھ 10ہزار شکایات حل کروائیں؛وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی

14

فیصل آباد،6اکتوبر  (اے پی پی):وفاقی محتسب اعلیٰ پاکستان اعجاز احمد قریشی نے بتا یا کہ پچھلے سال وفاقی محتسب کے ادارہ نے1 لاکھ 10ہزار شکایات حل کروائیں جبکہ ان کا ادارہ180سے زائد ایجنسیزکے خلاف شکایات سن کر60 روز میں فیصلے کررہا ہے اور گزشتہ ادوار کی نسبت ان کے ادارہ نے جنوری سے کیس نمٹانے کی شرح میں 35فیصدکا اضافہ کردیا ہے تاکہ عوام کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔

 جمعرات کو وفاقی محتسب ریجنل سیکرٹریٹ فیصل آباد میں میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے میڈیا کا شکریہ ادا کیا کیونکہ وہ عام لوگوں میں اس ادارے بارے آگاہی پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کا ادارہ 1983سے کام کر رہا ہے جس کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ جن افراد کو اداروں کے بارے میں شکایات پیدا ہوتی ہیں اور وہ لوگ متعلقہ اداروں کے حکام کے دفاتر تک رسائی کی سکت بھی نہیں رکھتے ان کی جینوئن شکایات کا مفت ازالہ یقینی بنایا جا ئے کیونکہ ہر کسی کے پاس عدالتوں میں جانے اور مہنگے وکیل کرنے کی استطاعت نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی کی زندگی میں بہت زیادہ مسائل ہیں جن میں جب ایک عام آدمی کو انشورنس کے متعلقہ مختلف محکموں میں جانا پڑتا ہے تو ادارے اس کیلئے مختلف رکاوٹیں پیدا کر کے اس معاملے کوغیر ضروری تاخیر کا شکار کرتے ہیں یا بیوہ یا یتیم بچوں کے محکموں میں گریجوایٹی،پنشن یا انشورنس کے پیسوں کے مسائل ہوتے ہیں تو ان کا ادارہ دونوں پارٹیوں کو بلا کر ان میں تصفیہ کرانے کی کوشش اور عام لوگوں کے مسائل 60دنوں میں حل کرتا ہے۔

وفاقی محتسب اعلیٰ پاکستان اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ آن لائن شکایات کیلئے ان کی ویب سائٹ www.mohtasib.gov.pk موجود ہے جس کے ذریعے لوگ اپنی شکایات وفاقی محتسب کو بھیج سکتے ہیں جن کے قابل سماعت ہونے پر کارروائی ازاں تحقیقاتی افسر رپورٹ محکمہ یا ایجنسی کو بھیجتا اور جواب طلب کرتا ہے جس کی روشنی میں محتسب فیصلہ صادر فرماتا ہے۔

وفاقی محتسب نے کہا کہ ان کا لوگو فوری احتساب یقینی احتساب ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ سمندرپار پاکستانیوں کے حقیقی مسائل کے حل کیلئے موجود ہے جبکہ غیر حل شدہ مسائل کی صورت میں ان کی  ویب سائٹ  www.mohtasib.gov.pk اور  8انٹر نیشنل ایئر پورٹس پر قائم یکجا سہولیاتی مراکز میں سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے ہفتے کے ساتوں دن 24گھنٹے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اوور سیز پاکستانی فاؤنڈیشن،پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز کارپوریشن،پاکستان کسٹمز،ایئر پورٹ سکیورٹی فورس،وفاقی تحقیقاتی ایجنسی،سول ایوی ایشن اتھارٹی،اوور سیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن،نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی،اینٹی نارکوٹکس فورس،وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی،بیورو آف امیگریشن اینڈ اوور سیز ایمپلائمنٹ،ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس وغیرہ سے متعلقہ مسائل کا فوری حل بھی ممکن بنایا جارہا ہے۔

وفاقی محتسب نے کہا کہ دور دراز تحصیلوں میں رہنے والے لوگوں کو ان کی ٹیمیں جا کر ان کو آگاہی دیتی اور کھلی کچہریاں لگاتی ہیں تاکہ ان کی شکایات کا گھر کی دہلیز کے قریب تدارک ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ ان کے ایڈوائزرز کے محکموں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جس سے معاملات تاخیر کا شکار نہیں ہوتے نیز ان کے ایڈوائزرز کے جوڈیشری کے ساتھ بھی بہترین روابط موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب آدمی جب اپنا مسئلہ لیکر عدالتوں میں جائے تو پہلے وہ ایک وکیل کرے پھر کیس دائر کرے جس میں کئی سال لگ جاتے ہیں جسے وہ افورڈ ہی نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ جہاں 60،70 ہزار کے لین دین کا معاملہ ہو وہاں وہ بھاری فیس کیسے ادا کر سکتا ہے لہٰذا اس کیلئے ان کا ادارہ بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں ان کے   ایڈوائزر دونوں کی رضا مندی سے یہ معاملہ حل کروائیں گے کیونکہ ان کے ایڈوائزرز جوڈیشری کے ساتھ اچھا تعلق رکھتے ہیں۔

اعجاز احمد قریشی نے کہاکہ کوئی غریب آدمی یا بیوہ عورت جس کا بجلی کا بل زیادہ آگیا تو ہمارے ایڈوائزر محکمے کو کال کر کے اس کا معاملہ حل کروا دیتے ہیں کیونکہ ہمارے ایڈوائزرز کا محکموں کے ساتھ مسلسل رابطہ رہتا ہے تو وہی بیوہ عورت آکر ہمیں کہتی ہے کہ اس کاکام ہو گیا تو انہیں خوشی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ900کے قریب کیس ایسے ہیں جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہیں لیکن ان کے ایڈوائزرز کی محکموں کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے وہ کام ہو جاتے ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ یہ کام کروا کرانہیں غریب لوگوں کی دعائیں مل رہی ہیں ؎جیسے کہ نادرا کے متعلقہ کسی بندے کو ملک سے باہر جانے کیلئے ارجنٹ کارڈ کی ضرورت ہو اور نادرا نہیں دے رہاتو ایسی صورت میں ان کے ایڈوائزرز نادرا کے افسران کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے اس کامسئلہ فوری حل کروا دیتے ہیں۔

وفاقی محتسب  اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ ہم گورنمنٹ سرونٹ کی عزت نفس مجروح نہیں کرنا چاہتے  اسلئے ہم نے ہر محکمے کو کہاہے کہ ان کا ایک ذمہ دار افسر فوکل پرسن ہمارے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ غریب لوگوں کے مسائل حل کرنے میں آسانی پید اہو۔انہوں نے کہا کہ غریب آدمی جب کسی محکمے میں اپنے مسئلے کے حل کیلئے جاتا ہے تو جب اس محکمے کا گریڈ 21یا 22کا افسرانہیں بیٹھنے کا کہتا ہے تو انہیں بہت خوشی محسوس ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کیلکولیٹ کیا ایک ایکسر سائز کرائی کہ 2ملین سے زائد لوگوں کو جو شکایا ت تھیں وہ چندماہ میں حل کردی گئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں کہ ہم نے ان کو 2بلین دلوایا بلکہ اگر کسی کا بجلی کا بل 60ہزار آیا اور ہم نے چیک کیا تو ا س کا بل 20ہزار بنتا تھا تو اسے 20ہزار دینا پڑا اسی طرح جس کا زیادہ بل بنتا تھا اس کو 6قسطوں میں کروا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کی شکایات 60دنوں میں حل کرتے اورشہریوں کے حقوق کے وکیل ہیں۔انہوں نے کہا کہ90فیصد غریب طبقہ جس کو ادارے دفتر میں گھسنے نہیں دیتے جن کا بل پہلے 10سے 15ہزار آتا تھا اب 60سے70ہزار روپے آگیا ہے یا جس طرح غریب آدمی فوت ہو جاتا تھا تو اس کے انشورنس کے اداروں کے ساتھ معاملات طویل ہو جاتے ہیں اوران کے انشورنس کے پیسے بیشک دو تین لاکھ ہوں جب وہ حل نہیں ہوتے یا اس کی پنشن رکی ہوتی ہے تو ہمارے ایڈوائزر جا کر معاملات حل کروا دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ان کا ادارہ خوامخواہ شکایات بڑھوا اور اپنے نمبر بنا رہا ہے بلکہ ہم عوام میں شعور پیدا کرکے انہیں بتارہے ہیں کہ اگر ان کا مسئلہ حل نہ ہو تو پراپر پلیٹ فارم کونسا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے ایڈوائزر زمختلف شہروں میں جاکرکیمپ لگاتے اورمعاملات حل کراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ صرف وفاقی اداروں کے خلاف شکایات سنتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس مقصد کیلئے کہ لوگوں کو دور دراز سے نہ آنا پڑے تو ان کے 16ریجنل آفسز ہیڈ آفس کے علاوہ ہیں جبکہ پچھلے دو سال میں ہم نے 4نئے آفسز سندھ،بلوچستان،فرنٹیئر اوراندرون سندھ بھی بنائے تاکہ لوگوں کی شکایات کا ازالہ ان کی دہلیز پر ہو۔انہوں نے کہا کہ وہ خوداور ان کے60سے زیادہ ایڈوائزر ز بھی کھلی کچہری کرتے اور لوگوں کے مسائل سنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو پبلک کے ادارے ہیں جیسے نادرا،یوٹیلیٹی سٹور ز،ہسپتال وغیرہ جن میں لوگوں کو زیادہ مسائل کا سامنا ہے وہاں ان کے ایڈوائز ر ان اداروں کے ہیڈ زکے ساتھ مل کر عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں دیگر سروسز نہیں جاتیں وہاں ان کے ایڈوائز ر جا کر پبلک کی بات اورپبلک ان کے ایڈوائزر کی بات بھی سنتی ہے۔

وفاقی محتسب نے کہا کہ ہم شارٹ ٹرم میں اداروں کو آرڈر کرتے ہیں کہ وہ یہ یہ چیزیں بہتر کریں اوراس ضمن میں وہ خود اس ادارے کے ہیڈ یا سیکرٹری سے بات کرتے ہیں۔اعجاز قریشی نے کہا کہ ایسانہیں کہ ہم بیٹھے رہتے اور دیکھتے ہیں کہ کوئی آئے اور شکائت کرے تو ہم دیکھیں بلکہ ہماری ٹیمیں خود جا کر ان کے مسائل حل کرتی ہیں۔