سکھر ،19نومبر (اے پی پی):صوبائی وزیر سید ناصر شاہ ، سید قائم علی شاہ اور دیگر رہنما سانحہ سیہون کے لواحقین کے گاؤں پہنچ گئے ، فاتحہ کی گئی ، جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا کو فی کس 10، 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ۔
ہفتے کو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے ساتھ سہون روڈ حادثے میں خیرپور کی یوسی مہر علی کے ایک ہی خاندان کے 21 افراد کے جاں بحق ہونے پر داؤد گوٹھ پہنچ کر لواحقین سے تعزیت کی اور دعا کی۔
اس موقع پر لواحقین سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ سانحہ بہت بڑا ہے انسانی جانوں کا نعم البدل کوئی نہیں ہوسکتا سندھ کی تاریخ میں ایسا سانحہ نہیں دیکھا جس میں ایک ہی خاندان کے افراد جاں بحق ہوئے ہوں۔
اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ واقعہ بہت دل سوز ہے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر لواحقین سے تعزیت کرنے آئیں ہیں وفاقی حکومت نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیا ہے شفاف انکوائری کرائی جائے گی اور جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس کو ایف آئی آر میں بھی نامزد کیا جائے گا۔ انہوں نے اس موقع پرسندھ حکومت کی جانب سے روڈ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے فی کس 10،10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا جبکہ زخمیوں کا سندھ حکومت کی جانب سے بھرپور طریقے سے علاج کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ آج لواحقین سے تعزیت کے لیے آئے ہیں سندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی غم زدہ خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی وزیر مواصلات کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے فوری اس واقعے کا نوٹس لے کر متعلقہ ذمہ دار افسران کو معطل کیا ہے۔











