لاپتہ افراد کے لواحقین پرجو بیت رہی ہے وہ ہم سمجھ سکتے ہیں لیکن ہم یہ سب کمیشن کے ریکارڈ میں لانا چاہتے ہیں،سردار اختر مینگل

35

کوئٹہ 15 نومبر (اے پی پی): بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبا کی شکایات کا جائزہ لینے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں قائم کئے گئے کمیشن کے چیئرمین سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ لا پتہ افراد کے لواحقین پر جو بیت رہی ہے وہ ہم سمجھ سکتے ہیں،اسلا م آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ہمیں ذمہ داری سو نپی گئی ہے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین سے حقائق جان کر جامع رپورٹ اور سفارشات اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش کریں گے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاجی کیمپ کے دورے موقع پر خطاب کر تے ہوئے کہی۔ اس موقع پرکمیشن کے اراکین سینیٹر کامران مرتضی، افراسیاب خٹک، علی احمد کرد، ڈاکٹر عاصمہ فیض، ارکان صوبائی اسمبلی ثناءبلوچ، حمل کلمتی اور لاپتہ افراد کے لواحقین کی ایک بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بلوچستان کے طلبائکے مسائل پر قائم کمیشن کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سر دار اختر جان مینگل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اپریل میں پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں سے مسنگ طالب علموں، انکی اغوائنمائگرفتاریاں،طالب علموں کو جنس بے جا میں رکھنے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبائکو مختلف تعلیمی ادروں میں حراساں کرنے کے حوالے سے کمیشن قائم کیا گیا ہے بد قسمتی سے کمیشن کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہو پایا لیکن ماہ اکتوبر میں کمیشن کی سربراہ کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی جس کے بعد 18اکتوبر سے لیکر اب تک کمیشن کے اراکین کے ساتھ سات اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے لو احقین کے کیمپ آنے کا مقصد لو احقین سے حقائق حاصل کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے رکھنا ہے لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے مختلف احتجاج،کوئٹہ سے کراچی اور کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ اور کئی سالوں سے بھوک ہڑ تالی کیمپ بھی جا ری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی کمیشن با اختیار ہے لیکن ہمیں ذمہ داری سو نپی گئی ہے کہ ہم لاپتہ افراد کے لواحقین سے حقائق جان کر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں دو ماہ کا وقت ملا تھا جس میں ایک ماہ گزر چکا ہے کمیشن کے اراکین نے کوئٹہ پہنچتے ہی سب سے پہلے لا پتہ افراد کے کیمپ کا دورہ کیا اور آج بدھ کو جامعہ بلو چستان سے لاپتہ ہو نے والے طلبائکے لوا حقین سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ لا پتہ افراد کے لواحقین پر جو بیت رہی ہے کہ وہ ہم سمجھ سکتے ہیں لیکن ہم یہ سب کمیشن کے ریکارڈ میں لانا چاہتے ہیں۔