وفاقی حکومت کا سود کے خلاف اپیل واپس لینے کا خیر مقدم کرتے ہیں؛ حافظ طاہر محمود اشرفی

22

لاہور ،12نومبر  (اے پی پی):چیئرمین علمائے کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا سود کے خلاف اپیل واپس لینے کا خیر مقدم کرتے ہیں، سود کے خاتمے کے عمل کو تیز ی سے آگے بڑھنا چاہئے ، حکومت کی سود کے خاتمے کیلئے ہر ممکن مددکریں گے،صحافی ارشد شریف  کی موت پر بھی سیاست کی جا رہی ہے،سردی کی آمد سے سیلاب متاثرین کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، حکومت اپنے طور پر سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کوشش کر رہی ہے ہمیں بھی اس مقصد کی تکمیل کے آگے آنا چاہئے ملک میں امن وسلامتی قائم کرنے میں پاک فوج کا کردار اہم ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی اصل اساس شریعت محمدی کا نفاذ ہے،حکومت ملک میں سودی نظام کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے وہ اس نظام کو  ایسے راستے پر لانا چاہتی ہے کہ  ملک سے جتنی جلدی ممکن ہو اس کا خاتمہ ہو، سود کے خاتمے سے ملک کے تمام معاشی مسائل حل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا سود کے خلاف اپیل واپس لینے کا خیر مقدم کرتے ہیں، اس سلسلے میں ملک بھر کے علماء حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے، اس سودی نظام سے نجات کیلئے حکومت جو بھی اقدام کرے گی ہم ان کا ہر لحاظ سے ساتھ دیں گے،پاکستان میں امن اور سیاسی استحکام بہت ضروری ہے، اگرآج پاکستان میں سیاسی استحکام آ جائے تو پاکستان میں 25سے 30ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری آ سکتی ہے ۔

 چیئرمین علمائے کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سعودی ولی عہد پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں اس کا خیر مقدم کرتے ہیں،پوری پاکستانی قوم ان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتی ہے، سعودی ولی عہد پورے پاکستان کے مہمان ہیں ، وزیراعظم محمد شہبازشریف کی ہدایت کے مطابق پاکستانی قوم اور تمام مکاتب فکرکے علماء ان کا پرجوش استقبال کریں گے ، وہ تمام منصوبے جو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے شدہ ہیں وہ مکمل ہوں گے ، ماضی کی طرح حال میں بھی سعودی عرب پاکستان کے ساتھ بھر پور تعاون جاری رکھے گا ، ملک میں سیاسی عدم استحکام کے باوجود قطر ، چین ، سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہیں۔

 طاہراشرفی نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی اورمذہبی جماعتوں کو سیلاب زدگان کی مد د کیلئے آگے آناچاہیے ، سردی کا موسم آ چکا ہے سیلاب زدگان کے پاس ادویات نہیں ،  مناسب کپڑے نہیں اورکھانے کے لئے خوراک نہیں ہے ، ہماری اپیل ہے کہ ملک کی تمام مذہبی ، سیاسی جماعتیں اور میڈیا سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے اپنا کردارادا کریں ، حکومت اپنے طورپربھی سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے کوشش کررہی ہے ہمیں بھی اس میں اپنا حصہ ڈالناچاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف پوری پاکستانی قوم کا شہید ہے ، ارشد شریف کے خون کوبھی سیاست کی نذر کیا جا رہاہے ، اس کی موت پر بھی سیاست چمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے،ارشد شریف کو ان لوگوں نے قتل کیا ہے جو پاکستان کے دشمن ہیں، جوپاکستان میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں ‘ جو پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کے درمیان تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

 طاہر اشرفی نے کہا کہ کچھ لوگوں نے بغیرسوچے سمجھے ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے افواج پاکستان کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے ، اگر ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے کسی کے پاس شواہد ہیں تو وہ سپریم کورٹ میں جائے،ارشد شریف کے قتل کو کئی روزگزر چکے ہیں کبھی پریس کانفرنس اورکبھی کنٹینر پر چڑھ کر پاکستان کے قومی سلامتی اداروں کو نشانہ بنایا جا تا ہے ، آج اگرملک میں امن وسلامتی قائم ہے تو اس میں پاک فوج کا کردار اور پاکستانی قوم کی قربانیاں بہت اہم ہیں ۔

 چیئرمین علمائے کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اگر آج پاکستان شام ، لیبیا اور سری لنکا نہیں بنا ہے تو اس کی وجہ پاک فوج اور قوم کا اتحاد ہے ، پاک فوج نے ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پرحملے کی پوری قوم مذمت کرتی ہے ، اعظم سواتی کے ساتھ ہونے والاواقعہ قابل مذمت ہی نہیں بلکہ قابل نفرت ہے لیکن عمران خان جو روزانہ عدالتیں لگا رہے ہیں اس سے پاکستان کمزور ہو رہاہے جبکہ ہندوستان میں عمران خان کے بیانات پر شادیانے بجائے جا رہے ہیں را ء اور موساد جیسی دشمن تنظیمیں خوش ہو رہی ہیں جو پاکستان میں عدم استحکام اور بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ  ملک میں حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی کو پریس کانفرنس کرنا پڑی ۔ انہوں نے کہا کہ  پاک فوج کے سپہ سالار کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے اور ان کے کردار کومسلم امہ اور اقوام متحد ہ تسلیم کرتی ہے ۔

 طاہر اشرفی نے کہا کہ کہ ہم نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہے کہ گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا ، گالیاں سن کر دعا دینا اللہ کے نبیۖ کی سنت ہے۔انہوں نے کہا کہ اعظم سواتی کی ویڈیو اور لانگ مارچ پر فائرنگ واقعہ کے حوالے سے  الزامات کے کوئی شواہد نہیں ، اگر عمران خان کے پاس شواہد موجود ہیں تو سپریم کورٹ میں جائیں کیونکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس واقعہ کی شفاف تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے ادارے ہمارے لئے ریڈ لائن ہیں اور جو ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں وہ ہمیں قبول نہیں۔