ہماری حکومت میں ایک سال میں جو کام ہوئے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ؛ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو

20

کوئٹہ،18نومبر  (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ہمیں ورثے میں احتجاج اور دھرنے ملے جن کا ہم نے بات چیت کے ذریعے موثر خاتمہ کیا ، ہماری حکومت میں ایک سال میں جو کام ہوئے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ، حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی سمیت روزگار مہیا کرنا ہے جس کا صوبائی حکومت کو ادراک ہے ۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے 361ملازمین کو بحالی کے تقرر نامے تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ایک تاریخی دن ہے کہ جب ہم محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ملازمین کو دوبارہ بحالی کے آرڈر دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب میں صوبائی اسمبلی کا سپیکر تھا تو اس وقت بھی آپ سے میں نے یہی وعدہ کیا تھا کہ آپ کی دوبارہ بحالی کے لیے بھرپور کوشش کروں گا اور آپ کا وکیل بنوں گا اور آج اللہ کے فضل آپ اپنا کیس جیت چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے 300 سے زائد ملازمین کی دوبارہ بحالی ایک بہت مشکل مرحلہ تھا جس کے لیے صوبائی حکومت نے ملازمین کا بھرپور ساتھ دیا ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ احتجاج اور دھرنوں سے بہتر ہے کہ متعلقہ فورم تک اپنی آواز پہنچائی جائے ،وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں ،اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ اپنی شکایت ہم تک پہنچائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بجٹ کا 85 فیصد حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی پر صرف ہو جاتا ہے اور ترقیاتی بجٹ کے لیے فنڈز خاطرخواہ نہیں ہوتے ،ہم ابھی تک ملک کے دیگر صوبوں سے پیچھے ہیں اور یہاں کے اپنے وسائل بھی کم ہیں لیکن ہر حکومت کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ۔انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ملازمین کی دوبارہ بحالی کا ہم ذریعہ بنے ، 2010سے پہلے بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ میں بہت کم شیئر ملتا تھا اور حکومت بمشکل سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کر پاتی تھی لیکن اب الحمدللہ ہمارے صوبے کا ایک اچھا ترقیاتی بجٹ بھی ہے ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ اگر نیت صاف ہو تو کام آسان ہو جاتے ہیں جب ہم نے رواں مالی سال کا بجٹ پیش کیا تو صوبائی اسمبلی کے باہر کوئی احتجاج اور دھرنا نہیں تھا جس کی ہمیں تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں ایک عوامی وزیر اعلیٰ ہوں اور عوام میں سے ہوں ،میں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ میری آمد و رفت کے دوران روٹ نہیں لگایا جائے کیونکہ روٹ لگانے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے ہیلتھ کارڈ کا اجراءکیا جس میں بلوچستان کے 18 لاکھ خاندانوں کو دس لاکھ روپے تک صوبائی حکومت کے پینل پر موجود ہسپتالوں میں مفت علاج ومعالجہ کی سہولت میسر ہوگی ،بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کو بہتر طریقے سے جاری رکھنے کے لیے مزید فنڈز کا اجراءکیا گیا اور اب تک اس فنڈ سے امراض قلب اور گردہ سمیت دیگر موزی امراض میں مبتلا ہزاروں مریض مستفید ہو چکے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ریکوڈک کا تاریخی معاہدہ کیا اور اس معاہدے کے دوران تمام اراکین اسمبلی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا گیا اور ہم نے اس معاہدے میں بلوچستان کے عوام کے مفادات کے تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا اور اپنی ذمہ داری نبھائی ،بلوچستان کو اس معاہدے سے جو مالی فوائد حاصل ہوں گے وہ صوبے کے ڈویلپمنٹ میں اہم ثابت ہونگے اور صوبے کی معیشت مضبوط ہوگی ۔

 وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی اولین ترجیح اس کے عوام کو روزگار کی فراہمی ہوتی ہے ،ہماری کوشش ہے کہ وفاقی حکومت میں بلوچستان کی خالی آسامیوں پر بلوچستان کے لوگوں کو تعینات کیا جائے ،ہم نے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی میں 800 سے زائد آسامیوں پر بھرتی کی منظوری دی ہے ،ہمیں بخوبی ادراک ہے کہ بلوچستان کے عوام کا زیادہ انحصار بارڈر ٹریڈ سے منسلک ہیں ہم نے بارڈر پر تجارت کو آسان بنانے کے لئے بارڈر مارکیٹوں کے قیام کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے اور عوام کی عزت نفس کو مقدم رکھتے ہوئے صوبے سے غیرضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ بھی کیا ہے ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ سیلابی صورت حال میں امداد اور بحالی کے کاموں میں فوج کا کردار قابل ستائش رہا جنہوں نے صوبے کے تمام اضلاع میں ریلیف کے کاموں کو بھرپور انداز سے جاری رکھا ۔ انہوں  نے شہید لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی میں صوبائی حکومت کی بھرپور معاونت کی اور ان کی صوبے کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

 قبل ازیں وزیراعلیٰ نے محکمہ مواصلات اور تعمیرات کے دوبارہ بحال ہونے والے ملازمین کو بحالی کے آرڈر بھی دیئے ۔تقریب سے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات سردار عبدالرحمان کھیتران ، سابق صوبائی وزیر عبدالکریم نوشیروانی،اور چیئرمین ملازمین کمیٹی عبدالحئی بلوچ نے بھی خطاب کیا۔ ملازمین نے دوبارہ بحالی پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہر فورم پر اپنی آواز اٹھائی لیکن وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کو اللہ تعالی نے ان کی دوبارہ بحالی کا ذریعہ بنایا جس کے لیے وہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو صوبائی حکومت کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔