سکھر، 23 دسمبر (اے پی پی ): ممبر آپریشنز-2 سندھ ریوینیو بورڈ عبدالشکور شیخ نے کہا ہےکہ سکھر ، حیدرآباد اور لاڑکانہ ریجن کی جانب سے کروڑوں روپے ماہانہ ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ایوانِ صنعت و تجارت میں منعقدہ تقریب سے خطا ب میں کیا۔ سکھر ایوان کی جانب سے اپنے اراکین اور سکھر کے کاروباری طبقے کو درپیش مسائل ان کی خدمت میں پیش کیئے گئے ، جس میں ایس آر بی کو ورکرز ویلفیئر فنڈ جمع کرانے کے نوٹس کا اجراء روکنے ، سکھر کے ٹیکس دہندگان کی جانب سے ادا کئے جانے والے ٹیکس کے اعداد و شمار سکھر ایوان کو فراہم کرنے ، ایس آر بی سے متعلق آگاہی فراہم کرکے کاروباری طبقے کا ادارے پر اعتماد قائم کرنے سمیت دیگر سفارشات ان کی خدمت میں پیش کیں ۔
عبدالشکور شیخ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 1973ء کے آئین کے تناظر میں سروسز سیکٹر پر عائد کردہ ٹیکس وصول کرنا صوبوں کا اختیار ہےاور اس سلسلے میں ایس آر بی کا قیام 2010 ء سے عمل میں آیا ، اس سے قبل فیڈرل بیورو آف ریوینیو سروسز سیکٹر کا ٹیکس وصول کرکے صوبوں کو فراہم کرتا تھا ۔ انہوں نے سندھ میں قائم سروسز سیکٹر کے کاروباری یونٹس کی جانب سے واجب الادا ورکرز ویلفیئر فنڈ جمع کرانے کی گذارش کی اور اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سالوں کے واجب الادا ٹیکس ادا کرنے پر ایس آر بی کی جانب سے کوئی سرچارج یا جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا جبکہ ایف بی آر کو ادا کرنے پر سرچارج وصول کیا جاتا ہے ۔
عبدالشکور شیخ نے بتایا کہ سکھر ریجن 20 کروڑ ، حیدرآباد ریجن 35 کروڑ اور لاڑکانہ ریجن 5 کروڑ روپے ماہانہ ٹیکس ایس آر بی کو ادا کرتے ہیں جو کہ بہت کم ہے اس سلسلے میں انہوں نے شرکاء کو اپنا ٹیکس ادا کرنے سمیت دیگر ٹیکس دہندگان کو بھی ادائیگی کیلئے آمادہ کرنے کی گزارش کی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے سکھر کے ٹیکس کے اعداد و شمار فراہم کرنے کیلئے اپنے افسران کو ہدایت جاری کیں ۔
قبل ازیں سندھ ریوینیو بورڈ کے ممبر آپریشنز -2 عبد الشکور کی ایوان آمد پر سینئر نائب صدر گرداس وادھوانی ، نائب صدر محمد کامل فاروقی ، کنوینر ایف بی آر اینڈ ایس آر بی کمیٹی انجینیئر عبدالفتاح شیخ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا ۔ اس موقع پر ایس آر بی کے کمشنر ، ڈپٹی کمشنر و دیگر سمیت سکھر ایوان کے سینئر اراکین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔











