ملتان،17فروری(اے پی پی):وفاقی محتسب اعجاز احمد قر یشی نے وفاقی محتسب سیکر ٹر یٹ کے ملتان میں علا قائی دفتر کے دورہ کے دوران وفاقی سرکاری اداروں کے علا قا ئی سربرا ہان کو طلب کر کے ایک اجلا س کے دوران ہدا یت کی کہ وہ اس دفتر کے ساتھ مل کر وفاقی محتسب کے فیصلوں پر عملد رآ مد کو یقینی بنا ئیں تاکہ شکا یت کنند گان کو فو ری ریلیف مل سکے۔ انہوں نے اپنے دفتر کے مقامی افسران کو بھی ہدا یت کی کہ وہ فیصلوں پر عملد رآ مد پر خصو صی تو جہ دیں۔
اجلا س میں شر یک تمام اداروں کے سر براہان نے وفاقی محتسب کو اپنے مکمل تعا ون کا یقین دلا یا۔ اجلا س میں وفاقی محتسب کے علا قا ئی دفتر کے افسران کے علا وہ میپکو، نادرا، یو ٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن، اسٹیٹ لائف انشورنس کا رپو ریشن، بے نظیر انکم سپو رٹس پروگرام اور ایف آ ئی اے سمیت متعدد اداروں کے علا قا ئی سر برا ہان نے شر کت کی۔
وفاقی محتسب نے اس مو قع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ وفاقی محتسب سیکر ٹر یٹ غر یبوں کی عدا لت ہے اور اس ادارے کا مقصد نا دار اور پسما ندہ طبقے کی داد رسی کر نا ہے، سر کا ری افسران کو شکایات کے ازالے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بر وئے کار لا نا چا ہئیں۔
اجلا س کے دوران وفاقی محتسب نے علا قا ئی دفتر ملتان کے افسران اور عملہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اضا فی بجٹ اور مز ید عملہ طلب کئے بغیر ان کی انتھک محنت، کھلی کچہر یوں اور تنا زعات کے غیر رسمی حل جیسے پروگراموں کے با عث عا م لوگوں کے مسا ئل حل کر نے میں بہت بہتر ی آ ئی ہے۔
وفاقی محتسب نے اپنے دورے کے دوران ایک پر ہجوم پر یس کا نفر نس سے خطاب کر تے ہو ئے بتا یا کہ وفاقی محتسب کو سال2022 ء کے دوران ایک لا کھ 64 ہزار 174 شکا یات موصول ہو ئیں اور ایک لا کھ 57 ہزار 770 شکا یات کے فیصلے کئے گئے جو گز شتہ برس مو صول ہو نے والی110,405 شکا یات کے مقابلے میں 49 فیصد زیا دہ ہیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
وفاقی محتسب نے پریس کانفرنس کے دوران بیرون ملک پا کستا نیوں، پنشنروں، قید یوں با لخصو ص قید ی خوا تین اور بچوں کی سہو لیا ت کے لئے اٹھا ئے گئے اقدامات سے بھی میڈ یا کو آ گا ہ کیا۔ انہوں نے وفاقی محتسب کے افسران کی طر ف سے کھلی کچہر یوں کے انعقاد، تنا زعات کے غیر رسمی حل اور انفا رمیشن ٹیکنا لو جی کے جدید استعمال کی تفصیلات بتا تے ہوئے میڈ یا پر زور دیا کہ وہ محتسب کے پیغام کو عام کر نے میں تعاون کر یں تا کہ پاکستان کے غر یب عوام کو زیا دہ سے زیا دہ آ گا ہی ہو اور وہ اس ادارہ کے ذریعے فو ری اور مفت ریلیف حا صل کر سکیں۔











