نوشہرہ ورکاں، 23فروری (اے پی پی): مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر عالمی پنجابی پریوار کے زیرِ اہتمام ریلی نکالی گئی۔
اس موقع پر تنظیم کے بانی نویدِ اشفاق سراء نے کہا کہ اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبان کو سرکاری زبان تسلیم کرنا غلامی کے مترادف ہے، ہمارے سکولوں میں بچوں کو ابتدائی طور پر اردو اور پھر انگلش پڑھائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یوں پنجابی زبان پنجابی بولنے والوں کے گھروں سے ہی رخصت ہو رہی ہے اس لئے سکولوں میں پنجابی کو پرائمری سطح سے ہی لازمی مضمون کے طور پر تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔
نویدِ اشفاق سراء نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں پنجابی زبان کو سرکاری زبان قرار دیا جائے، پنجابی زبان اس کے حروفِ تہجی الفاظ قواعد ثقافتی طریقوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے، تاکہ پنجابی زبان آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ ہو سکے اور نئی نسل میں اس بارے میں شعور بیدار کرنے کے لئے پنجابی سے وابستہ ثقافتی ورثے لباس روایات تہوار لوک ادب اور عام بول چال کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں پنجابی بولنے اور پنجابی لکھنے والے کو پسماندہ سمجھتا ہے،اور اس سوچ کے خاتمے کے لئے بااثر اور تعلیم یافتہ طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔











