اسلام آباد، 12 اپریل (اےپی پی): اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی 50 سالہ تقریبات کے موقع پر قرار داد منظور کی گئی
17ویں اسپیکرز کانفرنس میں جمہوریت کی اہمیت, جدوجہد و آگاہی کے لیے تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کی تجویز دی گئی تھی
1973 کے آئین میں درج بنیادی حقوق، پاکستان میں آئینی اور جمہوری پیش رفت کی غیر جانبدارانہ تفصیل کو تمام متعلقہ مضامین شامل کیا جائے گا
قرارداد کے مطابق آگاہی مضامین تمام تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے مطالعہ پاکستان، تاریخ یا معاشرتی علوم کی نصابی کتابوں میں شامل کیے جائیں گے
آئین کی آگاہی کو پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تربیتی نصاب اور تعلیمی سرگرمیوں کا لازمی حصہ بنایا جائے گا
تعلیمی اداروں میں غیر و ہم نصابی سرگرمیوں میں پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت،
بنیادی حقوق اور آئین پرستی سے متعلق موضوعات کو شامل کیا جائے گا
قرارداد میں پبلک سروس براڈکاسٹرز اور آزاد نجی میڈیا اپنی عوامی خدمت کی ذمہ داریوں کے تحت
آئین بارے آگہی کے لیے مناسب وقت صرف کریں گے
صوبائی حکومتیں آئین کی اہمیت پر شعور اجاگر کرنے، اس کی حفاظت اور تحفظ کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات اٹھائیں گی
وفاقی حکومت تمام صوبائی حکومتوں اور وفاقی اکائیوں کی حکومتوں پر زور دے گی کہ وہ اس قرارداد پر عمل درآمد کریں
اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ آئین کی اہمیت اور اس کے نمایاں خدوخال کا مطالعہ، خاص طور پر انسانی حقوق
خواتین، اقلیتوں، بچوں، مناسب طریق کار، اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں اور اختیارات کی ٹرائیکوٹومی، صوبوں کے تمام تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل ہوں۔











