ملتان ؛ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا دوسرا اجلاس، کپاس کے کاشتکاروں کیلئے آئندہ پندرہ روزہ سفارشات پیش

21

 

ملتان، 17 اپریل (اے پی پی ): ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر زاہد محمود  کی زیر صدارت پیر کو یہاں بذریعہ آن لائن سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں  فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے کپاس کی کاشت سے متعلق 30اپریل تک کے لئے آئندہ پندرہ روزہ سفارشات پیش کی گئیں۔

سفارشات میں کہا گیا کہ کاشتکار گلائیفو سیٹ کے خلاف مدافعت والی (ٹرپل جین) اقسام میں بجائی کے وقت جڑی بوٹیوں والا سپرے نہ کریں۔15تا20دن کے بعد جڑی بوٹیاں اگنے پر گلائیفوسیٹ بحساب1لٹر فی ایکڑ تمام کھیت میں سپرے کریں اور اس کے4تا5دن بعد چھدرائی کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ زیادہ گرمی کے موسم یا پانی کی کمی کے علاقوں میں بیج کو کاشت سے پہلے4تا 6پانی میں بھگو دیں اور صبح کے وقت کاشت کریں اس سے اگاﺅ2 سے3دن میں مکمل ہوجائے گا اور اضافی پانی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آلو اور کینولہ کے جو کاشتکار کپاس لگانا چاہتے ہیں وہ زمین کی تیاری جلد از جلد مکمل کرلیں اور بیج کا مناسب انتظام کرلیں اور بیج ہمیشہ قابل اعتماد ادارے یا رجسٹرڈ سیڈ کمپنی سے ہی لیا جائے۔

زمین کی تیاری کے لئے کاشتکار لیزر لینڈ لیولر کا ضرور استعمال کریں اس سے کھیت ہموار ہوگا جس سے اگاﺅ بھی بہتر ہوگا اور پانی کی بچت کے ساتھ ساتھ کپاس کے پودوں کے مرجھاﺅ اور جھلساﺅ سے بھی بچا جا سکے گا۔ کلراٹھی زمینوں میںکپاس ڈرل کی بجائے پٹڑیوں پر کپاس کاشت کی جائے۔

اجلاس میں گندم کی ناڑ کو آگ لگانے کی بجائے اسے زمین میں ملانے کی سفارش کی گئی تاکہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوسکے ۔ گلنے سڑنے کے عمل کو تیز کرنے کے لئے آدھی بوری یوریا کا چھٹہ کریں اور پانی لگا دیں۔ کھیلیوں کی صورت میں کپاس کی کاشت کے لئے90فیصد اگاﺅ کی صورت میں4کلوگرام ،75فیصد اگاﺅ کی صورت میں4.5کلوگرام اور60فیصد اگاﺅکی صورت میں5کلوگرام براترا بیج استعمال کریں جبکہ بذریعہ ڈرل کاشت کی صورت میں90فیصد اگاﺅ پر8کلوگرام،75فیصد اگاﺅ پر9کلوگرام اور60فیصد اگاﺅ کی صورت میں10کلوگرام بر اترا بیج استعمال کریں۔ بی ٹی اقسام کی کاشت کے ساتھ10فیصد نان بی ٹی اقسام بھی ضرور لگائیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی زمینیں جہاں پانی کی کمی ہو وہاں پر دیگر اداروں کی منظور شدہ اقسام کے ساتھ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کی اقسام بی ٹی سی آئی ایم663،بی ٹی سی آئی ایم678اور بی ٹی سائیٹو535 کاشت کی جائیں اور جہاں پانی وافر مقدار میں دستیاب ہو تو کاشتکار بی ٹی سی آئی ایم785،بی ٹی سی آئی ایم343،بی ٹی سی آئی ایم632اور بی ٹی سائیٹو537کاشت کی جائیں۔

 اس کے علاوہ کاشتکار کپاس کی کاشت سے پہلے زمین کا تجزیہ ضرور کرائیں اور تجزیاتی رپورٹ کے مطابق سفارش کردہ کھادوں کا استعمال یقینی بنائیں۔ ابتدائی مرحلہ میں کپاس کی جڑی بوٹیوں کے نقصان سے بچاﺅ کے لئے مربوط طریقہ انسداد یقینی بنایا جائے۔ کاشتکار بجائی سے پہلے پینڈی میتھالین بحساب1200ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں یا پھر بجائی کے فورا بعد24گھنٹے کے اندر اندرایس میٹالاکلور بحساب800ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں اور20تا25میں چھدرائی کا عمل مکمل کرلیں۔ کاشتکار بجائی کے وقت فاسفورس یا پوٹاش کھادوں کا استعمال نہ کریں۔ یہ کھادیں چھدرائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈالیں اس سے کھادوں کی افادیت بہتر ہوگی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکار بیج کا انتخاب اپنے علاقے کے موسمی حالات اور زمین کی ساخت کے مطابق کریں اور کپاس کے پیداواری منصوبے میں علاقہ کے لئے سفارش کی گئی کپاس کی اقسام کاشتکریں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کپاس کی کاشت سے پہلے بیج کی ٹریٹمینٹ کسی اچھی کمپنی کے کیڑے مار زہر سے کی جائے ۔ اس عمل سے فصل پہلے30تا40دن رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رہے گی۔اگر فصل6انچ کی ہوگئی ہے تو کاشتکار سفید مکھی کے حملہ سے بچاﺅ کے لئے پیلے رنگدار چپکنے والے پھندوں کا استعمال کریں اس کے لئے10عدد پھندے فی ایکڑ لگانے کی سفارش پیش کی گئی۔جہاں پر کپاس کاشت کرنی ہو تو دھیان رہے اس کھیت کے ساتھ بینگن، پیاز بھنڈی وغیرہ کی فصل نہ لگی ہو۔

 فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ تیسرا اجلاس 2مئی کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل ،ڈاکٹر محمد ادریس خان، ڈاکٹر فیاض احمد،مس صباحت حسین ،ساجد محمود،ڈاکٹر رابعہ سعید اورجنید خان ڈاہا سائنٹفک آفیسر نے شرکت کی۔