اوکاڑہ،03مئی (اے پی پی): یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں شعبہ ابلاغیات اور شعبہ سماجیات کے اشتراک سے یوم آزادی صحافت کے سلسلہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔سیمینار کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد واجد نے کی۔سیمینار میں طلباء اور تدریس صحافت سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ ڈاکٹر زاہد بلال نے اس دن کی اہمیت کو اجاگر کیا اوربتایا کہ آزادی صحافت کو ماپنے کے پیمانے وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں لیکن بنیادی اجزاء وہی ہیں۔ جیسے جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے،اظہار رائے کی نت نئی راہیں کھل رہی ہیں اور اسی طرح صحافتی اقدار اور قوانین بھی بدل رہے ہیں۔ انہوں نے صحافت کے طلباء کو تلقین کی کہ وہ مثبت صحافت کے فروغ کےلیے اپنا کردار ادا کریں۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن اوکاڑہ خورشید جیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پہ ہمیں مادر پدر آزادی کا کوئی لائسنس نہیں مل جاتا بلکہ ہمیں اپنے خیالات اور رائے کے اظہار کو مروجہ معاشرتی، تقافتی اور مذہبی اقدار کا پابند کرنا چاہیے۔ انہوں نے طلباء سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں حق اور سچ کی خاطر جدوجہد کرنے والے صحافیوں کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے اور ان سے سیکھنا چاہیے۔
شعبہ سماجیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہزاد فرید نے اپنے خطاب میں معاشرتی تبدیلی کےلیے طلباء اور اساتذہ کے کردار پہ روشنی ڈالی۔ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ برصغیر کے دانشور صحافت کے پابند سلاسل ہونے کے باعث اپنے خیالات کے اظہار کےلیے ادب کا سہارا لیتے تھے۔ سیمینار کے دیگر مقررین میں شعبہ سماجیات کے سربراہ ڈاکٹر عرفان لطیف، لیکچرار زویا یعقوب، لیکچرار شعبہ ابلاغیات احمد رضار اور ایڈمن آفیسر صادق امین شامل تھے۔











