اسلام آباد۔10مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت وسماجی تحفظ / چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ( بی آئی ایس پی ) شازیہ مری نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اس وقت 90 لاکھ غریب خاندانوں کی مالی کفالت کر رہا ہے مگر اب بھی بہت بڑی تعداد معاشی مسائل کا شکار ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتیں اور عالمی ادارے مل کر کام کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پہلی قومی سماجی تحفظ کانفرنس کے تیسرے اور آخری روز اپنے خطاب میں کیا۔ یہ کانفرنس بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے جرمن ادارہ جی آئی زیڈ کے تعاون سے منعقد کی جارہی ہے جس میں عالمی بنک و دیگر عالمی اداروں کے نمائندگان، وفاقی و صوبائی حکومتوں کےاعلی افسران و معاشی ماہرین بھی شریک ہیں۔شازیہ مری نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ملک کے سب سے بڑے سماجی تحفظ پروگرام ہونے پر فخر ہے۔ گزشتہ 15 سالوں میں اس پروگرام نے بہت کچھ سیکھا اوربہت کچھ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کیلئے ہم اپنے ترقیاتی شراکتی اداروں کے بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے اس ادارے کی بہبود اور استحکام کیلئے مسلسل بنیادوں پر اپنی دلچسپی ظاہر کی۔انہو ں نے مزید کہا کہ ملک کے غریب افراد کی مدد کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کی معاشی دیکھ بھال کیلئے یہ ضروری ہے کہ تمام وفاقی و صوبائی ادارے مل کر ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جن کے تحت ان کی مدد کویقینی بنایا جاسکے۔ ہم باہمی مشاورت اور موجودہ وسائل کے بہتر استعمال سے اچھے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ملک کے تمام مستحق افراد کو سماجی تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس کے تحت سماجی تحفظ کے تمام پروگراموں اور اقدامات کو یکجا کیا جاسکے۔ اس کانفرنس کے انعقاد کے بعد یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ ہمیں کس سمت میں کام کرنا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بینظیر تعلیمی وظائف اور بینظیر نشوونما کے ذریعے مستحق گھرانوں کے بچوں کی تعلیم اور صحت کے لئے اپنا کردار ادا کررہا ہے جو کہ ایک بہترین مثال ہے کہ کس طرح سے صوبائی حکومتوں کیساتھ مل کر کام کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم دیگر صوبائی و بین الاقوامی اداروں کیساتھ مل کر مشترکہ مالی معاونت اور ڈیٹا کے اشتراک سے غریب گھرانوں کی معاشی بہتری کیلئے منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سماجی تحفظ کانفرنس میں ہونے والے ڈائیلاگ کو مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیئے۔ انہوں نے بی آئی ایس پی اور تمام اسٹیک ہولڈز کے مابین ایک مشاورتی فورم کے قیام کی تجویز پیش کی جو معاشرے کے پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے تمام حکومتی، صوبائی اور بین الاقوامی اداروں کی کوششوں کو یکجا کرے۔ وفاقی وزیر نے شرکا ء کو آگاہ کیا کہ حال ہی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرا م کے تحت بلوچستان کی عوام کیلئے تعلیم اور صحت سے متعلق پروگرام کے آغاز کی منظوری دی گئی ہے جو یہ بلوچستان کی عوام کیلئے بڑی خوشخبری ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ہیومن کیپٹل ڈویلپمنٹ میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سماجی تحفظ اور قدرتی آفات کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحرانوں سے نمٹنے کیلئے بین الاقومی طریقہ کار اور منصوبہ بندی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔قبل ازیں شازیہ مری نے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں پہلی مرتبہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا پروگرام دیا تھا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی اسی کا تسلسل ہے۔ انہوں نے صوبوں سے آئے ماہرین و ذمہ دار افسران کو اپیل کی کہ اس کانفرنس سے استفادہ حاصل کرکے صوبائی سطح پر ایسا نظام وضع کریں جس سے ہنگامی حالات میں عوام کو تیزی سے امداد کو یقینی بنایا جا سکے۔کانفرنس کے تیسرے اور آخری روزعالمی اداروں کے نمائندگان، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلی سطحی افسران و ماہرین نے ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے یا کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والی بحرانوں میں متاثرہ لوگوں کی بروقت امداد کے لئے سرکاری اداروں کی استعداد بڑھانے کے لئے تجاویز پیش کیں۔











