پشاور،8 مئی(اے پی پی): جماعت اسلامی کے سابق صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ تھیلیسیمیا جیسی موذی اور لاعلاج مرض کے روک تھام کیلئے حکومت ،سیاسی جماعتوں، علمائے کرام، میڈیا اور تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر اپنا مثبت اور تعمیری کردار اداکرنا چاہیے تاکہ علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس موذی مرض کے مزید پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکے۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیدائشی طور پر خون کی کمی کے موذی مرض تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کی حالت زار اور اس موذی مرض کے روک تھام کےحوالےسے الخدمت ہسپتال نشترآباد پشاور کے زیراہتمام تھیلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر پشاور پریس کلب میں منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا۔
سابق وزیر صحت عنایت اللہ خان نے کہا کہ اس موذی مرض کے حوالے سے قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے پہلی بار ایم ایم اے دور میں ہم نے شادی سے پہلے میاں بیوی کیلئے ٹیسٹ لازمی قراردینےکا قانون تیار کیاتھا۔انہوں نے کہا کہ قانون کا اصل فائدہ تب ہوتا ہے جب اس قانون کو عملی بنایا جائے اور تھیلیسیمیا سے متعلق اب بھی عوام میں شعور بیدار کرنا ہی وقت کی اولین ضرورت ہے کیونکہ تاحال اس مرض کا علاج نہیں ہے اور جب تک کسی مرض کا علاج نہ ہو تو اختیاط ہی اس مرض کا بہترین علاج ہوتا ہے۔
تقریب سے خطاب میں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی سیکرٹری اطلاعات سابق ایم پی اے ثمر ہارون بلور، الخدمت فاونڈیشن کے صوبائی صدر خالد وقاص جنرل سیکرٹری شاکر صدیقی،پشاور پریس کلب کے صدر ارشد عزیز ملک، پاکستان ریلوے کے ڈویژنل سپرٹینٹ ناصرخلیلی، تھیلیسیمیا فیڈریشن آف پاکستان کے ڈاکٹر نوید شریف،میاں عتیق الرحمان،ڈاکٹر شہزاد اعوان سمیت الخدمت ہسپتال نشترآباد پشاور کے ڈائریکٹر ڈاکٹراقتدار احمد روغانی نے بھی خطاب کیا۔
سابق رکن صوبائی اسمبلی ثمر بلور نے کہا کہ تھیلیسیمیا کا علاج ایک مشکل اور مہنگا علاج اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں عوام دو وقت کی روٹی کیلئے سرگرداں ہیں۔ ماہرین کے مطابق دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ خاندان میں کزن میرج بھی اس موذی مرض کے پھیلاؤ کا ایک ذریعہ ہےجس کے روک تھام کیلئے شادی سے قبل ٹیسٹ کےقانون پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔
سیمینار میں پشاور کے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام اور طلبہ وطالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔مقررین نےالخدمت ہسپتال نشترآباد کے ساتھ رجسٹرڈ تھیلیسیمیا مریضوں کی دیکھ بھال، علاج اوراس مرض کی پیچیدگیوں سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال کےساتھ 600سے زائد تھیلیسیمیا کے مریض رجسٹرڈ ہیں جن کو باقاعدگی کے ساتھ مفت خون اور دیگر طبی ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ رجسٹرڈ مریضوں کا تعلق خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہیں اور الخدمت انہیں بلامعاوضہ خون اور دیگر طبی امداد فراہم کرریا ہے۔
اس موقع پر ہسپتال کے ڈائریکٹر نے معزز مہمانان گرامی کو یادگاری شیلڈز پیش کئے جبکہ سیمینار کے اختتام پر پریس کلب پشاور کے سامنے تھیلیسیمیا سے آگاہی کے سلسلے میں واک کا اہتمام بھی کیا گیا۔











