سکھر۔03مئی(اے پی پی): سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے محکمہ جیل خانہ جات سندھ میں بھرتیوں سے متعلق حکم امتناعی میں 7 جون تک توسیع کردی۔ محکمہ جیل خانہ جات سندھ میں کانسٹیبل اور دیگر سٹاف کی بھرتیوں میں مقامی امیدواروں کو نظر انداز کرنے اور اس حوالے سے توہین عدالت کی درخواست پر ہائی کورٹ سکھر بنچ نے سماعت کی۔
جسٹس ظفر احمد راجپوت اور جسٹس ذوالفقار احمد خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سکھر ڈویڑن کے امیدواروں کو نظر انداز کرنے اور عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ شہاب الدین صدیقی اور دیگر افسران سماعت کے سامنے پیش ہوئے۔ طلبہ کے وکیل نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ محکمہ جیل خانہ جات میں افسران کی بھرتی کے لیے سال 2022 میں ہونے والے ٹیسٹ میں 40 سے اوپر اچھے نمبر لے کر امتحانات لیے گئے، اس کے باوجود جان بوجھ کر زبانی امتحان میں فیل کرکے میرٹ پر پورا نہ اترنے والوں کو نوکریاں دی گئیں۔
ایڈووکیٹ عبدالستار شر اور ایڈووکیٹ فاروق ہالیپوتو نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم امتناعی کے باوجود من پسند افراد کو نوکریاں دی جارہی ہیں اور تنخواہوں کے لیٹر جاری کیے گئے ہیں جو کہ سیدھی عدالت کی توہین ہے۔ وکلا اور محکمہ جیل خانہ جات کے افسران کو سننے کے بعد عدالت نے توہین عدالت کیس میں محکمہ جیل سندھ میں حالیہ بھرتیوں پر حکم امتناعی میں 7 جون تک توسیع کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کردیئے۔











