لاہور،12 مئی (اے پی پی):سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید کی زیرصدارت بورڈ آف ریونیو کے کمیٹی روم میں فل بورڈ کااجلاس منعقد ہوا جس میں تمام ممبران، سیکرٹریز، پی ڈی ایم اے اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے نمائندوں سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دور دراز اضلاع کے شہریوں کو لاہور کی عدالتوں میں نہیں آنا پڑے گا بلکہ کیسز کی سماعت ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے گی۔ا س حوالے سے ریونیو کورٹ مینجمنٹ سسٹم کو مکمل فعال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ریونیو عدالتیں مقررہ مدت میں کیسز کو نمٹائیں اور لوگوں کے مسائل بروقت حل ہوں گے۔
سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید نے ہدایت کی کہ ریونیو ریکوری کے ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز فیلڈ میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں اسٹیٹ لینڈ زپر قائم 70 ہزار سے زائد دوکانوں، پٹرول پمپس اور میگا کمرشل ایریاز کی آکشن پر غور کیا جائے، اسٹیٹ لینڈ زکا ڈیٹا محفوظ بنانے کے لیے پنجاب بھر میں ٹیمیں تشکیل دی جائیں تاکہ سرکاری وسائل کی حفاظت ہو۔
نبیل جاوید نے کہا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ہاوسنگ سکیموں میں آنے والی اسٹیٹ لینڈز کو واگزار کروانے پر خصوصی توجہ دیں اوراسٹیٹ لینڈ واگزار کروانے کے آپریشن کی نگرانی کریں۔اسٹیٹ لینڈ زکے آکشن پراسس کو آوٹ سورس اور آن لائن کرنے پر بھی غور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ لینڈ زکو واگزار کروانے، قابل کاشت بنانے اور عوامی مقاصد کے استعمال میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں چوکیدارہ نظام میں بہتری لانے اور چوکیدارہ فیس بڑھانے پر غور کیا گیا تاکہ لوگوں کو پرتحفظ ماحول ملے۔
سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید نے جوڈیشل ممبران کو اپنی اپنی ڈویژنز میں انسپکشن کے عمل کو یقینی بنانے کا حکم دیا، فیلڈ فارمیشن کے لیے بہتر میکنزم بنایا جائے گا اور لانگ اور شارٹ ٹرم پلان تشکیل دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ مینجمنٹ ریونیو سٹاف کے بغیر ممکن نہیں،اس حوالے سے ریونیو سٹاف کی کمی کو جلد پورا کیا جائے گا۔ریونیو ریفارمز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ شہریوں کی جائیدادوں کو ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے محفوظ بنایا جائے گا۔ای رجسٹریشن اور پلس منصوبہ ریکارڈ کی غیر قانونی ردوبدل اور کرپشن کی روک تھام میں اہم ثابت ہو گا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ اراضی ریکارڈ سنٹرز کی موثر مانیٹرنگ کی جائے اور کرپشن میں ملوث افسران و اہلکاران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ریونیو سروس ڈیلیوری میں بہتری لائی جائے۔











