اوکاڑہ،5 جون (اے پی پی ):یونورسٹی آف اوکاڑہ کے شعبہ سیاسیات اور شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی جانب سے پاکستان کے ثقافتی ورثے کے سماجی و سیاسی پہلوﺅں کے موضوع پر ایک سیمینارکا انعقادکیا گیا جس کی صدرات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد واجد نے کی جبکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے معظم خان دورانی نے بطور مہمان سپیکرشرکت کی۔
معظم دورانی جو کہ بہاولپور کے نور محل میوزیم کے کوریٹر بھی ہیں نے اس تاریخی ورثے کے مختلف سماجی، سیاسی اور ثقافتی پہلوﺅں کو اجاگرکیا اور اوکاڑہ کے ثقافتی ورثے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اوکاڑہ یونیورسٹی اس علاقے میں مختلف میوزیم کے قیام اور تاریخی عمارات کے تحفظ کے ذریعے سیاحت کو فروخت دینے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں پروفیسر واجد نے ورثے کے تحفظ اور ترویج کی اہمیت کوبیان کرتے ہوئے کہا کہ عظیم اقوام ہمیشہ اپنی تاریخ اور ثقافت کو نہ صرف یاد رکھتی ہیں بلکہ اس پر فخر محسوس کرتی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی عظیم ثقافت کی ترویج کے لئے کام کرنا چاہیے ۔
وائس چانسلر نے اس حوالے سے اوکاڑہ کے ایک ممبر قومی اسمبلی چوہدی ریاض الحق جج کا بھی ذکر کیا جنہوں نے پارلیمنٹ میں اپنی ایک حالیہ تقریر کے دوران اوکاڑہ کی ثقافتی شناخت پر بات کی، چوہدری ریاض الحق جج نے بتایا کہ اوکاڑہ میں دنیا کے بہترین ڈیری جانور جیسا کہ گائے اور بھینس پائے جاتے ہیں ، اس کے علاوہ یہ علاقہ آلو اور مکئی کی وسیع پیداوار کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہے ،پروفیسر واجد نے کہا کہ اس شناخت کی ترویج سے ہم اوکاڑہ میں ایگری ٹوارزم کے کئی مواقع پیدا کرسکتے ہیں ۔
شعبہ سیاسیات کے سربراہ عثمان شمیم نے سیمینار کے شرکاءسے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی ثقافت کے متعلق مکمل آگاہی حاصل کرنی چاہیے تاکہ ہم اقوام عالم کے سامنے اپنی مثبت شناخت بنا سکیں، انہوں نے مزید کہاکہ اوکاڑہ کی ثقافت برصغیر پاک و ہند میں جنم لینے والی بہت سی مزاحمتی تحریکوں کی یادوں اور یادگاروں کی امین ہے ۔
اس موقع پہ شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سربراہ ڈاکٹر فاخرہ شاہداورشعبہ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غلام غوث نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔











