اسلام آباد،13جون (اے پی پی):سمندری طوفان بپر جوائے کا پاکستانی ساحل سے فاصلہ 400 کلومیٹر سے کم رہ گیا ہے، ساحلی علاقوں میں دھند اور گرد و غبار کی کیفیت ہے، ارلی وارننگ اور آگاہی مہم سے جانی و مالی نقصان سے بچنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں میں مکمل رابطے قائم ہیں، صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام ایمرجنسی ادارے اور افواج پاکستان مکمل تیار ہیں۔ منگل کو سمندری طوفان بپر جوائے کی صورتحال اور اس سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ سینیٹر شیری رحمن، وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر خان اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ سمندری طوفان کے پیش نظر ساحلی علاقہ سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، کل تک صورتحال اسی طرح رہی تو پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں میں ہمارے تمام ایمرجنسی ادارے اور افواج پاکستان مکمل تیار ہیں، اگر طوفان کی شدت میں اضافہ ہوا تو صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 50 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، ان افراد کے لئے ابتدائی طور پر خوراک اور میڈکل سہولیات کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سمندری طوفان اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں میڈیا کو ہر 2 گھنٹے کے بعد اپ ڈیٹ کریں گے۔
وفاقی وزیر سینیٹر شیریں رحمان نے کہا کہ ساحلی علاقوں سے لوگوں کا انخلاء جاری ہے اور یہ عمل آج رات بھر جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ ساحلی علاقوں سے متصل آبادیوں میں سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کو اس الرٹ کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، ابھی بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ ماہی گیر سمندر میں موجود ہیں، ابھی تک کسی قسم کی پریشانی کی بات نہیں ہے، حکومت نے پیشگی تیاری مکمل کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساحلوں علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کیلئے گھروں سے نکلنا اور اداروں سے تعاون کرنا ہو گا، پوری کوشش ہے کہ ساحلی علاقوں کو کسی ممکنہ تباہی اور پریشانی سے بچا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 110 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے جبکہ بدین، ٹھٹھہ اور دیگر ساحلی علاقوں میں 300 ملی میٹر تک بارش متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ طوفان کا رخ فی الحال بلوچستان کی طرف نہیں تاہم احتیاط کرنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر بجلی خرم دستگیر نے کہا کہ طوفان کا کچھ اثر بجلی کے نظام پر ابھی سے پڑ چکا ہے، سمندر میں ایل این جی کے جہاز فی الحال رک گئے ہیں اور بجلی بنانے کے لئے اندرونی ذرائع سے ایل این جی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بڑے پاور پلانٹ کو خدانخواستہ نقصان ہوا تو پیشگی متبادل انتظامات کر رہے ہیں، پورے سسٹم کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ساحلی علاقوں میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں مکمل الرٹ ہیں، ساحلی علاقوں کے لئے بجلی کی ترسیل بڑھا رہے ہیں۔











